Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
197 - 361
احادیث گھڑنے والوں پر مقدمات
اظہارِ حق کی خاطربے قراری: 
(10069)…حضرت سیِّدُناخَضِر بن یَسَع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سخت گرمی میں کپڑا لپیٹ کر جاتے دیکھا گیاتو کسی نے عرض کی: اے ابو بسطام! کہاں جا رہے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں حضورنبی مکرم، شَفیعِ مُعظّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جھوٹ باندھنے (یعنی حدیث گھڑنے )والے شخص کے خلاف مقدمہ دائر کرنے جا رہا ہوں۔ 
(10070)…حضرت سیِّدُنا حمّاد بن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مجھ سے ملے اس وقت اُن کے پاس مٹی کاایک  ڈھیلا بھی تھا، میں نے عرض کی: ابو بسطام! کہاں جا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ابان بن ابوعیاش کی طرف جا رہا ہوں تاکہ اُسے قاضی کے روبرو پیش کروں کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے ۔ میں نے عرض کی:  مجھے آپ پراُن کے قبیلے عبد القیس کا خوف ہے ۔ راوی  کہتے ہیں:  میں نے ان سے گفتگو کی تو وہ واپس لوٹ گئے ۔ اس کے بعد وہ مجھے پھرملے اور فرمایا: اے  ابو اسماعیل!میں نے اس معاملے میں بہت غور کیامگر مجھے خاموش رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ملی۔ 
(10071)…حضرت سیِّدُنا حمّاد بن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ  ہم نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ابان بن ابوعیاش کے متعلق گفتگو کرکے اُس کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی گزارش کی تو انہوں نے فرمایا: وہ ایساہے ، وہ ویساہے ۔ ہم نے عرض کی: ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ فرمایا:  ٹھیک ہے ۔ راوی فرماتے ہیں : ایک دن بارش ہو رہی تھی  اورمیں اپنے گھر میں تھا، کیا دیکھاکہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بارش کے پانی میں چلے آ رہے ہیں، آتے ہی مجھے پکارا تو میں نے جواب دیا، انہوں نے فرمایا:  بات یہ ہے کہ میں ابان پر مقدمہ کرنے جا رہا ہوں۔ میں نے  عرض کی:  کیا آپ نے اُس کے خلاف کاروائی سے رُکنے کا ذمہ نہ لیا تھا؟ تو ارشادفرمایا:  مجھ سے صبر نہیں ہوتا، مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ پھر وہ چلے گئے ۔ 
(10072)…حضرت سیِّدُنا حماد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کودیکھا وہ ہاتھ میں مہر لگانے والی مٹی لیے تیزی سے کہیں جارہے تھے ، میں نے  پوچھا: