(10064)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگرحدیث میں ” حَدَّثَنِی “ (یعنی فلاں نے مجھ سے حدیث بیان کی)اور ” سَمِعْتُ “ (یعنی میں نے سنا)کے الفاظ ہوں تووہ دست بدست ہے اوراگراس میں ” سَمِعْتُ “
اور ” اَخْبَرَنِي “ کے الفاظ نہ ہوں تو وہ گھاس وترکاری کی طرح ہے ۔
(10065)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ہر وہ کلام جس میں ” سَمِعْتُ “ کا لفظ نہ ہو تو وہ گھاس وترکاری کی مثل ہے ۔
(10066)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن قطان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں نے 20سال تک حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت اختیار کی ، میں ان کے پاس سے تین سے 10احادیث ہی لے کر لوٹتا تھا اوراکثراتنی ہی احادیْثِ مبارکہ سنتا تھا ۔
توثیقِ روایت میں شدت:
(10067)…حضرت سیِّدُنا حماد بن سلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُنا حُمَید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ سے وہ حدیث بیان کر دی، آپ نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث شریف خود سُنی ہے ؟ انہوں نے کہا: ” میرے خیال میں سُنی ہے ۔ “ آپ نے ہاتھ سے اِس طرح اشارہ کیا کہ ” میں یہ روایت نہیں لیتا ۔ “
پھر جب آپ کھڑے ہو کرچلے گئے توحضرت سیِّدُناحُمَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سنی ہے مگر انہوں نے مجھ پر سختی کی تو میں نے چاہا کہ میں بھی ان پر سختی کروں ۔
(10068)…حضرت سیِّدُنا یزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شَرْقِیْ بن قَطامی کی یہ روایت بیان کی کہ ” امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(منٰی کی) راتیں عقبہ سے آگے گزارتے تھے ۔ “ روایت سناکرفرمایا: اگر میں شرقی بن قطامی کو حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جھوٹ باندھنے والا نہ سمجھوں تو میرا گدھا اورمیری اونٹنی مسکینوں پر صدقہ ہے ۔
حضرت سیِّدُناعبْدُاللہانطاکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں کہ بیماردل کی پانچ دوائیں ہیں: (۱)نیکوں کی صحبت(۲)تلاوتِ قرآن (۳)کم کھانا(۴)تہجدکی پابندی(۵)رات کے آخری حصہ میں گریہ وزاری۔ (المنبھات للعسقلانی، باب الخماسی، ص۶۰)