سیِّدُناعُقْبَہ بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سُنی ہے ؟اس وقت حضر ت مِسْعَربن کِدام بھی وہاں موجود تھے ، کہنے لگے : حضرت عبداللہ بن عطاء مَکۂ مکرمہ میں موجود ہیں۔ پس میں ان کے پاس مَکۂ مکرمہ پہنچ گیا جبکہ میرا حج کا ارادہ نہیں تھا بلکہ حدیث شریف کا ارادہ تھا، میں نے حضرتعبداللہ بن عطاء سے اس حدیث پاک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: مجھے یہ حدیث حضرت سعد بن ابراہیم نے بیان کی تھی۔ وہاں حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بتایا کہ حضرت سعدمدینہ منورہ میں ہیں اور وہ اس سال حج کے لئے نہیں آئے ۔ چنانچہ پھر میں مدینہ طیبہ حاضرہوااورحضرت سعد سے اس حدیْثِ پاک کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث شریف آپ لوگوں ہی کی طرف سے آئی ہے اورمجھ سے حضرت زیاد بن مخراق نے بیان کی ہے ۔
حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے کہا: یہ حدیث شریف کیسی ہے ؟ پہلے یہ کوفی تھی پھر مکی ہوگئی، پھر مدنی ہوئی اوراب بصری ہو گئی، الغرض میں نے بصرہ آ کر حضرت زیاد بن مخراق سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث آپ کے معیار کی نہیں۔ تو میں نے کہا: مگر آپ مجھے اس کے متعلق ضرور بتائیں۔ لہٰذاانہوں نے بتایا کہ مجھے یہ حدیث شریف حضرت شہر بن حوشب نے ، انہیں حضرت سیِّدُناابو ریحانہ نے اوران کو حضرت سیِّدُناعقبہ بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بیان کی ہے ۔ پس جب انہوں نے حضرت شہربن حوشب کاذکرکیا تو میں نے کہا: انہوں نے اس حدیث کی صحت خراب کردی ۔
نصر بن حمادکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ حدیْثِ پاک میرے لئے درجہ صحت کو پہنچتی تویہ مجھے میرے گھروالوں، میرے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ پھر میں نے یہ حدیث حضرت مثنی بن معاذ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: حضرت بشر بن مفضل نے مجھے یہ حدیث حضرت شعبہ بن حجاج کے اس قصہ کے ساتھ بیان کی اور اس میں حضرت محمد بن منکدر کا ذکر بھی کیا۔ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ
الفاظِ روایت کی اہمیت:
(10063)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جس حدیث میں ” حَدَّثَنَا “ (یعنی فلاں نے ہم سے حدیث بیان کی)اور ” اَخْبَرَنَا “ (یعنی فلاں نے ہمیں خبردی)کے الفاظ نہ ہوں تو وہ گھاس وترکاری کی مانند ہے ۔