راویانِ حدیث سے تصدیق:
(10061)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا کہ حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث پاک ” كُنَّا نَتَنَاوَبُ الرَّعِيَّةَ “ (یعنی ہم نے اونٹ چرانے کی باریاں مقرر کی ہوئی تھیں)آپ نے کس سے سنی؟ تو انہوں نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن عطاء سے ۔ تو میں نے حضرت عبداللہ بن عطاء کے پاس جا کر پوچھا: آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟انہوں نے فرمایا: حضرت زیاد بن مخراق سے ۔ پھر میں نے اُن کے پاس حاضر ہوکرپوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ؟تو انہوں نے فرمایا: حضرت شہربن حوشب سے ۔ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم
حدیث کی خاطر کئی شہروں کاسفر:
(10062)…نَصْر بن حَمَّاد بَجَلی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہنے مجھ سے یہ حدیث سنی جسے میں نے یوں بیان کیاکہ میں حضرت اسرائیل سے ، وہ حضرت ابواسحاق سے ، وہ حضرتعبداللہبن عطاء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعقبہ بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ” ہم نے اونٹ چرانے کی باریاں مقرر کی ہوئی تھیں، ایک مرتبہ میں وضو کر کے رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہواجبکہ حضرات صحابَۂ کرام آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں آپ کے قریب ہوا اور آپ کو یہ فرماتے سنا: ” جو شخص وضو کر کے مسجد میں داخل ہو اور دو رکعت نماز ادا کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔ “ یہ سن کر میں نے کہا: واہ واہ !کیا بات ۔ پھر پوری حدیث ذکر کی۔
راوی کا بیان ہے کہ حدیث سن کر حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے تھپڑ مار دیا، میں ایک کونے میں جا کر رونے لگا ۔ پھر آپ فرمانے لگے : یہ کیوں رو رہاہے ؟ حضرت ابنِ ادریس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: اس لئے کہ آپ نے اس کے ساتھ بُراسلوک کیا۔ انہوں ارشادفرمایا: دیکھوتوسہی!یہ حضرت اسرائیل ازحضرت اسحاق والی سندسے کیا بیان کر رہا ہے ؟ میں نے حضرت ابو اسحاق سے پوچھا: آپ سے یہ حدیث کس نے بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے حضرتعبداللہ بن عطاء نے بیان کی اوروہ آگے حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا حضرتعبداللہ بن عطاء نے حضرت