Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
193 - 361
امیرالمؤمنین فی الحدیث: 
(10054)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرمایاکرتے تھے : حضرت سیِّدُناشعبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیرالمؤمنین فی الحدیث ہیں ۔ 
(10055)…حضرت سیِّدُنایعقوب بن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقکسی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے سامنے حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکاذکرہواتوانہوں نے فرمایا:  یہ چھوٹے امیرالمؤمنین ہیں۔ 
شوقِ حدیث کا عالَم: 
(10056)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میں حضرت سیِّدُنا عَمْرو بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کی بارگاہ میں 500مرتبہ حاضرہوااوراُن سے صرف100حدیثیں سنیں یعنی ہر پانچ مجلسوں میں ایک حدیث۔ 
(10057)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  میں نے کسی بھی شخص سے جتنی احادیْثِ مبارکہ سنیں ہیں اس سے کہیں زیادہ اُن کے پاس چکر لگائے ۔ 
بیانِ حدیث میں احتیاط : 
(10058)…ابوالولید ضبی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا تو ارشاد فرمایا: بخدا! میں تمہیں یہ حدیث بیان نہیں کروں گا کیونکہ میں نے یہ ایک ہی بارسنی ہے ۔   
(10059)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مَکۂ مکرمہ کے راستے میں میری ملاقات حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ہوئی تو میں نے عرض کی:  کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا:  میں حضرت سیِّدُنا اسود بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک حدیث لینے جا رہا ہوں۔ 
(10060)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بارش والے دن ایک دُم کٹے گدھے پر سوار کہیں جا رہے تھے ، میں ان سے ملا اور پوچھا:  کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟آپ نے فرمایا:  میں حضرت سیِّدُنا اسود بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جا رہا ہوں، انہوں نے ہم سے فلاں سال میں کچھ احادیْثِ طیبہ بیان کی تھیں ، میں انہیں سال بھر یاد رکھنے کے لئے دیکھوں گا۔