Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
192 - 361
تمام لوگوں کا کرایہ ادا کرتے : 
(10047)…حضرت سیِّدُنا ابو نَضَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب کشتی میں بیٹھتے توتمام لوگوں کی طرف سے کرایہ ادا کردیتے تھے ۔ 
(10048)…حضرت سیِّدُنا نضر بن شُمَیْل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ مسکینوں پر رحم کرنے والا نہیں دیکھا، جب وہ کسی مسکین کو دیکھتے تو اسے  دیکھتے رہتے یہاں تک کہ وہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔ 
مجلس حدیث میں سائلوں کی خبرگیری: 
(10049)…حضرت سیِّدُنا مسلم بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں  اگر کوئی سائل کھڑا ہوتا تو آپ اُسے کچھ دے کرہی حدیث بیان کرتے ، ایک دن ایک سائل کھڑا ہواپھربیٹھ گیا، آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے ؟کسی نے کہا:  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے اسے ایک درہم دینے کاذمہ لے لیا ہے ۔ 
(51-10050)…حضرت سیِّدُناعثمان بن جبلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دراز گوش ، اس کی زین اور لگام کی قیمت لگائی تو وہ 10درہم سے کچھ زیادہ بنی ۔ 
500ایکڑزمین چھوڑدی: 
(10052)…حضرت سیِّدُنا محمد بن عُرْوَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے بیان کیا کہ خلیفہ مہدی نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو30ہزار درہم تحفے میں بھیجے توانہوں نے وہ درہم تقسیم فرمادیئے اور یوں ہی خلیفہ نے آپ کو بصرہ میں100ایکڑزمین دی تو وہ بصرہ تشریف لائے مگرانہیں کسی شے سے خوشی نہیں ہوئی لہٰذاانہوں نے وہ زمین بھی چھوڑدی۔ 
(10053)…حضرت سیِّدُنایزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ غریب ہونے کے باوجود فرمایا کرتے تھے : کسی غریب سے حدیث نہ لکھو، وہ تو خود اپنے سسرال اور بھتیجے کے زیرِکفالت ہوتا ہے ۔