Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
191 - 361
حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ہوتا ، پس اُس وقت کوئی مانگنے والا آجاتا اورآپ کے پاس اُسے دینے کو کچھ نہ ہوتا تو مجھ سے فرماتے :  یحییٰ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ میں کہتا: ہاں، اور انہیں  پیش کردیتا۔ تو وہ لے کر سائل کو دے دیتے پھر جب اُس کا عوض مجھے لوٹاتے تو میں عرض کرتا : ابو بسطام! یہ کیا ہے ؟ ارشادفرماتے :  یہ لے لو۔ 
سخی دل انسان: 
(10043)…ابوقَطَن عمرو بن ہیثم کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کپڑے مٹی کی رنگت والے ہواکرتے ، وہ بہت زیادہ نمازپڑھتے ، کثرت سے روزے رکھتے اورسخی دل انسان تھے ۔   
(10044)…حضرت سیِّدُناعبدالعزیز بن داؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب اپنی کھال کھجاتے تھے تو اس سے مٹی جھڑتی تھی۔ 
بے مثال سخاوت: 
(10045)…حضرت سیِّدُناابومحمد حجاج بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک درازگوش پر سوارجارہے تھے ، راستے میں حضرت سیِّدُناسلیمان بن مغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ملے اور انہوں نے آپ سے اپنی پریشانی بیان کی تو آپ نے ان سے فرمایا:  ”  خدا کی قسم! میری ملکیت میں صرف یہی ایک گدھا ہے ۔  “ پھر آپ گدھے سے اُترے اور  گدھا ان کے حوالے کر دیا۔ 
(10046)…حضرت سیِّدُنا ابو داؤد طَیَالِسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ  میں حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس تھا، اتنے میں حضرت سیِّدُنا سلیمان بن مغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روتے ہوئے آئے ، آپ نے ان سے پوچھا: ابو سعید! آپ کیوں رو رہے ہیں؟انہوں نے عرض کی: میرا گدھا مر گیا جس کی وجہ سے میرا جمعہ نکل گیا اور دیگرضروریات بھی پوری ہونے سے رہ گئیں ۔ آپ نے فرمایا:  تم نے وہ گدھا کتنے میں خریدا تھا؟ عرض کی: تین دینار میں۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس تین دینارموجود ہیں، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی قسم! اس کے سوا میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔ وہاں موجود ایک لڑکے سے فرمایا: وہ تھیلی یہاں لے آؤ۔ اُس میں تین دینارتھے ، آپ نے وہ تھیلی ان کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا:  اس سے گدھا خرید لو اور روؤ نہیں۔