میں پیش قدمی کی تو قرآنِ کریم سے پیچھے رہ گئے ۔ “ اوربسا اوقات اپنے سر پر ہاتھ مار کر فرماتے : ” خَاک بَسَرِ شُعْبَہ یعنی شعبہ کے سر پر خاک۔ “
(10037)…ابوقَطَن عَمْرو بن ہیثم کابیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوطویل رکوع کرتے دیکھتاتویہی سمجھتاکہ آپ بھول گئے ہیں اوردوسجدوں کے درمیان دیرتک بیٹھے دیکھتا تو گمان کرتا کہ آپ بھول گئے ہیں۔
(10038)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر میرے پاس تھوڑا ساآٹا اور ایک لکڑی ہو تو مجھے کچھ پروانہیں کہ دنیا کی کون سی چیز میرے پاس نہیں ہے ۔
لوگوں کے لیے آراستہ مت ہو:
(10039)…حضرت سیِّدُنا ابو نوح قُراد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھے ایک قمیص پہنے دیکھاتوفرمایا: یہ کتنے میں خریدی؟میں نے کہا: آٹھ درہم میں۔ آپ نے فرمایا:
” تم پرافسوس ہے !آٹھ درہم کی قمیص پہنتے ہوئے تمہیں خداسے ڈرنہیں لگتا؟چاردرہم کی قمیص خریدکرچار درہم صدقہ نہیں کر سکتے تھے ؟یہ تمہارے لئے بہترہوتا۔ “ میں نے کہا: اے ابو بسطام! میں ایسے لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں جن کے لئے ہمیں آراستہ ہونا پڑتا ہے ۔ ارشادفرمایا: آخر ہم ان کے لئے آراستہ ہوتے ہی کیوں ہیں؟
(10040)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں میں سب سے زیادہ نرم دل تھے ، جب بھی کوئی سائل آپ کے پاس آتا تو اپنے گھر میں داخل ہوتے اور جوہوسکتا اُسے عطا فرماتے ۔
غریبوں کی دستگیری:
(10041)…حضرت سیِّدُنا عَفَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بیٹھتے وقت کئی مرتبہ یہ فرماتے سنا: ” اگر مجھے تم سے حاجتیں نہ ہوتیں تو میں تمہارے ساتھ نہ بیٹھتا۔ “ اور اُن کی حاجتیں یہ تھیں کہ وہ اپنے غریب پڑوسیوں کے لئے سوال کیا کرتے تھے ۔
(10042)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا شعبہ بن