حضرت سیِّدُنا شُعْبَہ بن حَجّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
انہی مقدس ہستیوں میں سے ایک مشہور امام، نمایاں شخصیت، جن کی خوبیوں کا چرچا ہے ، عابدوزاہد، روایتوں کی جستجو اور ان میں شدت کرنے والے ، روایت اور حدیث میں امیرالمؤمنین، سابقہ وموجودہ محدثین کی زینت، روایات کی صحت پرزیادہ توجہ رکھنے والے ، گناہوں کا بوجھ اٹھانے سے بری، بہت حجت اورتحقیق والے حضرت سیِّدُنا ابوبسطام شعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں جوفقرکو گلے لگانے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے حفاظت پر بھروسا رکھنے والے تھے ۔
منقول ہے کہ بقدرِ ضرورت پر اکتفا کرنے اور پاکدامنی سے مُزیَّن ہونے کا نام تَصَوُّف ہے ۔
کھال ہڈیوں پر سوکھ گئی:
(10033)…حضرت سیِّدُناابوبحربَکراوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ عبادت گزار کوئی نہ دیکھا، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرکرکے ان کی کھال ان کی ہڈیوں پر سوکھ چکی تھی حتّٰی کہ ہڈی اور کھال کے بیچ گوشت نہیں تھا۔
(10034)…حضرت سیِّدُنا حمزہ بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوگفتگو کرتے سنا ہے ، اُن کی زبان میں کافی ثقل تھا اور عبادت کے سبب اُن کی کھال ہڈی پر خشک ہوچکی تھی۔ وہ فرماتے ہیں: اگرمیں تمہیں ثقہ راویوں سے حدیث بیان کروں توتین سے زیادہ سے نہیں کرپاؤں گا۔
روزوں کا اثر نظر نہ آتا:
(10035)…عمر بن ہارون کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بلاناغہ لگاتارروزے رکھتے مگر آپ پر ان کا کوئی اثرنظر نہ آتا تھاجبکہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مہینے میں تین دن روزہ رکھتے اورآپ پران کااثر دکھائی دیتا تھا۔
(10036)…حضرت سیِّدُناابوقُتَیْبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حدیث شریف کے متعلق اصحابِ حدیث سے بارہافرمایا: ” اے لوگو!یاد رکھو کہ تم نے جب بھی حدیث پاک