Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
188 - 361
بہترین اور بد ترین : 
(10030)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورپُرنور، شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: سچوں میں سب سے بہتروہ ہے جواللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف بلائے اوراُس کے  بندوں کواُس کی طرف راغب کرے اور فاسقوں میں سب سے بد تر وہ ہے جو زیادہ قسمیں کھائے اگرچہ سچا ہو اور اگر جھوٹا ہو تو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ (1)
(10031)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت  ہے کہ حضورنَبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے فجر پا لی اور جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی اس نے عصر پا لی(2)۔ (3)
(10032)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ والی اُمَّت، سراپارحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب کسی کے ہاتھ میں چکنائی کی بُو ہو اور بغیر ہاتھ دھوئے سوجائے اور اس کو کچھ تکلیف پہنچ جائے تو وہ خودکوہی کو ملامت کرے ۔ (4)
٭…٭…٭…٭



________________________________
1 -   مسند الفردوس، ۱ / ۳۶۴، حدیث: ۲۶۹۵
2 -   مُفَسِّر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: کیونکہ اس نے نماز کا وقت پالیا اوراس کی یہ نماز ادا ہوگی نہ کہ قضاء۔ خیال رہے کہ اس بارے میں احادیث متعارض ہیں۔ اس حدیث سے تو معلوم ہوا کہ طلوع وغروب کے وقت نمازصحیح ہے مگر دوسری روایت میں آیا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان وقتوں میں نمازپڑھنے سے سخت منع فرمایا، لہٰذا قیاسِ شرعی کی ضرورت پڑی جو ان میں سے ایک حدیث کو ترجیح دے ۔ قیاس نے حکم دیا کہ اس صورت میں عصر درست ہوگی اورفجرفاسد ہوجائے گی کیونکہ عصر میں آفتاب ڈوبنے سے پہلے وقت مکروہ بھی آتا ہے یعنی سورج کا پیلا پڑنا، لہٰذا یہ شروع بھی ناقص ہوئی اورختم بھی ناقص، لیکن فجر میں آخر تک وقت کامل ہے اس صورت میں نمازشروع تو کامل ہوئی اورختم ناقص، لہٰذا عصر میں اس حدیث پرعمل ہے اورفجرمیں ممانعت کی حدیث پر۔ غرضکہ سور ج نکلتے وقت کوئی نماز درست نہیں اورسورج ڈوبتے وقت اس دن کی عصرجائز ہے اگرچہ مکروہ ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۱ /  ۳۸۴، ملتقطاً)
3 -   مسلم، کتاب المساجد، باب من ادرک رکعة من   الخ ، ص۳۰۶، حدیث: ۶۰۸
4 -   ترمذی، کتاب الاطعمة، باب ماجاء فی کراھیة البیتوتة    الخ ، ۳ / ۳۴۰، حدیث: ۱۸۶۷