Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
186 - 361
(10023)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ غریبوں کے غمگسار، بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ” اُعْطُواالْاَجِيْرَاَجْرَهٗ قَبْلَ اَنْ يَجِفَّ عَرَقُہٗیعنی مزدورکواس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔  “ (1)
قرآنِ  کریم پر اُجرت کی مذمَّت: 
(10024)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ” مَنْ اَخَذَ عَلَى الْقُرْاٰنِ اَجْرًا فَذَاكَ حَظُّهٗ مِنَ الْقُرْاٰنِ یعنی جس نے قرآن مجید پر اجرت لی تو اس کا قرآنِ کریم سے یہی حصہ ہے (2)۔  “ (3)



________________________________
1 -   ابن ماجہ، کتاب الرھون، باب اجر الاجراء، ۳ / ۱۶۲، حدیث: ۲۴۴۳ ، عن ابن عمر
2 -   سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی پر اُجرت لینادینا دونوں حرام ہے ، لینے والے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ ، ۲۳ / ۵۳۷)یوں ہی سوئم وغیرہ کے موقع پر اُجرت پرقرآن پڑھواناناجائز ہے دینے والا لینے والا دونوں گنہگار۔ (بہارشریعت، حصہ۱۴، ۳ / ۱۴۶)البتہ تعلیْمِ قرآنِ کریم پراُجرت لینا جائزہے ۔ چنانچہ، صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’تعلیْمِ قرآن وفقہ اور اذان وامامت پر اجارہ جائز ہے کیونکہ ایسا نہ کیاجائے تو قرآن و فقہ کے پڑھانے والے طلبِ معیشت میں مشغول ہو کراس کام کوچھوڑ دیں گے اور لوگ دِین کی باتوں سے ناواقف ہوتے جائیں گے ۔ ‘‘(بہارشریعت، حصہ۱۴، ۳ / ۱۴۶)صَدْرُالشَّرِیْعَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزیدفرماتے ہیں: ’’جس بندۂ خدا سے ہوسکے کہ ان امور کومحض خالصاً لوجہاللہ (خالص اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے )انجام دے اور اجراُخْرَوی (آخرت کے اجر)کا مستحق بنے تو اس سے بہتر کیابات ہے  پھراگرلوگ اس کی خدمت کریں بلکہ یہ تصوّر کرتے ہوئے کہ دِین کی خدمت یہ کرتے ہیں ہم ان کی خدمت کرکے ثواب حاصل کریں تو دینے والا مستحق ثواب ہوگا اور اُس کولینا جائز ہوگا کہ یہ اُجرت نہیں ہے بلکہ اعانت وامدادہے ۔  “ (بہارشریعت، حصہ۱۴، ۳ / ۱۴۶) مزید فرماتے ہیں:  اجرت پر اطاعت وعبادت اوردینی خدمت کا ثواب نہیں ملتا کیونکہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ليے عمل نہ ہو تو ثواب کی اُمید  بیکار ہے ۔ (بہارشریعت، حصہ۱۴، ۳ / ۱۴۶) ہاں! اگر تعلیْمِ قرآن اور امامت ومُؤَذِّنی پراُجرت لیناکسی کی مجبوری ہوتو اچھی نیت ہونے پر ثواب کی امید کی جاسکتی ہے  جیساکہ مُفَسِّرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:  اگر نيت خير ہو تو دينی خدمت پرتنخواہ لينے کی وجہ سے اس کا ثواب کم نہيں ہوتا، ديکھو ان عاملوں(زکوۃ وصدقات جمع کرنے والوں) کو پوری اجرت دی جاتی تھی مگر ساتھ میں يہ ثواب بھی تھا، چنانچہ مجاہد کو غنیمت بھی ملتی ہے اور ثواب بھی، حضرات خلفائے راشدين سوائے حضرت عثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سب نے خلافت پر تنخواہيں ليں مگر ثواب کسی کا کم نہيں ہوا، ايسے ہی وہ علماء يا امام و مؤذّن جو تنخواہ لے کر تعليم، اذان، امام کے فرائض انجام ديتے ہيں اگران کی نيت خدمَتِ دين ہے تو اِنْ شَآءَ اللہ ثواب بھی ضرور پائيں گے ۔ (مراٰۃ المناجيح ، ۳ / ۱۸)
3 -   جمع الجوامع، حرف المیم،  ۶ / ۴۰۷، حدیث: ۲۰۱۴۷