Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
185 - 361
لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے : 
(10020)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: لوگوں کی مثال اُن100اونٹوں کی طرح ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاؤ گے ۔ (1)
(10021)… حضرت سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حُضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” بے شک دین خیر خواہی ہے ، بے شک دین خیر خواہی ہے ، بے شک دین خیرخواہی ہے ۔  “ عرض کی گئی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کس کے لئے خیرخواہی ہے ؟ارشادفرمایا:  ” اللہعَزَّ  وَجَلَّکے لئے ، اس کے رسول کے لئے ، اس کی کتاب کے لئے (2)، مسلمانوں کے اماموں کے لئے اورعام مسلمانوں کے لئے (3)۔  “ (4)
شکرگزار کی فضیلت: 
(10022)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ” الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ مِثْلُ الصَّائِــمِ الصَّامِتِ یعنی کھاکرشکرکرنے والاروزہ رکھ کر چُپ رہنے والے کی طرح ہے ۔  “ (5)



________________________________
1 -   ابن ماجہ، کتاب الفتن ، باب من ترجى له السلامة من الفتن ، ۴ / ۳۵۱، حدیث: ۳۹۹۰، عن ابن عمر
2 -   امام محی الدین یحییٰ بن شرف نَوَویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے لئے خیرخواہی سے مراد اللہ عَزَّ    وَجَلَّ پر ایمان لانا، شرک سے بچنا، اس کی اطاعت کرنا وغیرہ، اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کی کتاب کی خیرخواہی سے مراد اس بات پرایمان لاناکہ یہ اللہ عَزَّ   وَجَلَّکی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اوریہ مخلوق کے کلام کے مشابہ بالکل نہیں، اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے رسول کی خیرخواہی سے مرادان کی رسالت کی تصدیق کرنااوران کے لائے ہوئے احکام پرایمان لاناہے ۔ )شرح مسلم للنووی، کتاب الایمان، باب بیان ان الدین النصیحة، ۱ / ۳۸ ملتقطاً)
3 -   مُفَسِّرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ558پر اس کی شرح میں فرماتے ہیں: اماموں سے مراد یا تو اسلامی بادشاہ اسلامی حکام ہیں یا علماء دین مجتہدین کاملین اولیاء واصلین ہیں۔ ان کی نصیحت یہ ہے کہ انکے ہر جائز حکم کی بقدرِ طاقت تعمیل کرنا، لوگوں کو ان کی اطاعت جائزہ کی طرف رغبت دینا، آئمہ مجتہدین کی تقلیدکرنا، ان کے ساتھ اچھا گمان رکھنا، (مرقات)علماء کا ادب کرنا۔ عام مسلمانوں کی نصیحت یہ ہے کہ بقدر طاقت ان کی خدمت کرنا، ان سے دینی و دنیا مصیبتیں دورکرنا، ان سے محبت کرنا، ان میں علم دین پھیلانا، اعمال نیک کی رغبت دینا، جو چیز اپنے لیے پسند نہ کرے ان کے لیے پسند نہ کرنا۔ 
4 -   نسائی، کتاب البیعة، النصیحة للامام، ص۶۸۴، حدیث: ۴۲۰۵
5 -   ترمذی، کتاب الصیام، باب فیمن قال:  الطاعم الشاکر، ۲ / ۳۵۵، ۳۵۶،  حدیث: ۱۷۶۴، ۱۷۶۵،  ” الصامت “  بدلہ ”  الصابر “