(10001)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزے کی حالت میں اپنی بعض ازواج کا بوسہ لے لیا کرتے تھے (1)۔ (2)
گھروالوں سے حُسنِ سلوک:
(10002)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حُسنِ اخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں(بیوی بچوں) کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں تم سب سے بہتر ہوں ۔ (3)
(10003)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا کہ قریش کہا کرتے تھے : ہم حرم کے رہنے والے ہیں لہٰذا ہم منٰی ہی سے واپس لوٹ جائیں گے جبکہ دیگر لوگ عرفات سے لوٹا کرتے تھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیتِ طیبہ نازل فرمائی:
ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ (پ۲، البقرة: ۱۹۹) ترجمۂ کنز الایمان: پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں۔ (4)
سر ڈھانپنے کے مواقع:
(10004)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بیْتُ الخلاءجاتے تواپنے سراقدس کوڈھانپ لیتے اوریوں ہی جب اپنی ازواج سے صحبت فرماتے تومبارک سرکو ڈھانپ لیتے تھے ۔ (5)
________________________________
1 - احناف کے نزدیک: (روزے کی حالت میں)عورت کابوسہ لینااورگلے لگانااوربدن چھونامکروہ ہے جب کہ یہ اندیشہ ہوکہ اِنزال ہوجائے گایاجماع میں مبتلاہوگااورہونٹ اورزبان چوسناروزہ میں مطلقاً(یعنی چاہے انزال وجماع کاڈرہویانہ ہو)مکروہ ہے ۔ (بہارشریعت، حصہ۵، ۱ / ۹۷)
2 - مسند امام احمد، مسند السیدة عائشة، ۱۰ / ۶۷، حدیث: ۲۶۰۱۲
3 - ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل ازواج النبی صلی الله عليه وسلم ، ۵ / ۴۷۵، حدیث: ۳۹۲۱
4 - مسند طیالسی، الجزء السادس، عروة بن زبیر عن عائشة، ص۲۰۷، حدیث: ۱۴۷۱
5 - سنن کبری للبیھقی، کتاب الطھارة، باب تغطیة الراس عند الخ ، ۱ / ۱۵۵، حدیث: ۴۵۵