Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
179 - 361
 بیٹھ جائے ۔  “ لیکن یہ ضرور ہے کہ تم دوسروں کو جگہ دو اور کشادگی پیدا کرو۔ (1)
(9995)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ  خلق کے رہبر، محبوب ربِّ داور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی باندیوں(عورتوں) کو مسجدوں سے نہ روکو(2)۔ (3)
(9996)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ    وَجَلَّ کے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” قبر والوں پرروزانہ  ان کے جنت اور جہنم کے ٹھکانے پیش کئے جاتے ہیں ۔ (4)



________________________________
1 -    بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسحوا   الخ ، ۴ / ۱۷۹، حدیث: ۶۲۷۰
2 -   شروع میں عورتوں کو مسجدوں میں آنے کی اجازت تھی مگر بعد میں حضرات صحابَۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اتفاق سے اس سے ممانعت کردی گئی ، یہی قول حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا ہے ۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا:  ” جوباتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں اگر رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ان باتوں کو ملاحظہ فرماتے تو مسجدمیں آنے سے انہیں ضرورمنع فرمادیتے ۔  “ (بخاری، کتاب الاذان، باب انتظار الناس قیام الامام العالم، ۱ /  ۳۰۰، حدیث:  ۸۶۹) اب تو عورتوں کی عریانیت اور ان کی آزادی بہت بڑھ چکی ہے ۔ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عورتوں کا حال دیکھ کر انہیں مسجد میں آنے سے منع فرما دیا حالانکہ اِس زمانہ میں اگر ایک عورت نیک ہے تو اُن کے زمانَۂ مبارکہ میں ہزاروں عورتیں نیک تھیں اور اُن کے زمانہ میں اگر ایک عورت فاسِقہ تھی تو اب ہزاروں عورتیں فاسِقہ ہیں اور حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے تھے کہ عورت سراپا شرم کی چیز ہے ۔ سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کے قریب اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے اور جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے اورحضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جمعہ کے دن کھڑے ہو کر کنکریاں مار مار کر عورتوں کو مسجد سے باہر نکالتے اور حضرتِ سیِّدُنا امام ابراہیم نخعی تابعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ   لِی اپنی مستورات کو جمعہ اور جماعت میں نہیں جانے دیتے تھے اور حضرتِ سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور دیگرمُتَقَدِّمین نے اگرچہ بوڑھی عورتوں کی فجر، مغرب اور عشاء کی جماعتوں میں شرکت کو جائزٹھہرایا تھا لیکن مُتاَخِّرِین نے بوڑھی ہو یا جوان ہر عمر کی عورتوں کو سب نمازوں کی جماعت میں دن کی ہو یا رات کی شرکت سے منع فرمادیا اور ممانعت کی وجہ فتنہ کا خوف ہے جو حرام کا سبب ہے اور جو چیز حرام کا سبب ہوتی ہے وہ بھی حرام ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب فساد زمانہ کے سبب اب سے سیکڑوں برس پہلے مسجدوں میں حاضر ہونے اور جماعتوں میں شرکت کرنے سے عورتیں روک دی گئیں حالانکہ ان دونوں باتوں کی شریعت میں بہت سخت تاکید ہے تو اس زمانہ میں جب کہ فتنہ و فساد بہت بڑھ چکا ہے بھلا عورتوں کا بے پردگی کے ساتھ سڑکوں، پارکوں  اور بازاروں میں گھومنا پھرنا  اور نا محرموں کو اپنا بناؤ سنگار دکھانا کیونکر جائز و درست ہو سکتا ہے ۔ (ماخوذ از فتاوٰی فیض الرسول، ۲ /  ۶۳۵، ۶۳۶)
3 -   بخاری، کتاب الجمعة، باب: ۱۳، ۱ / ۳۱۰، حدیث: ۹۰۰
4 -   مسند الفردوس، ۲ / ۲۰۵، حدیث: ۵۲۰۴، عن ابن عباس