Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
178 - 361
(9990)…حضرت سیِّدُنا سہل بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  میری امت جب تک افطار میں جلدی کرتی رہے گی خیر پر رہے گی ۔ (1)
	حضرت سیِّدُنا اسماعیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ  ” اور ستارے ظاہر ہونے تک نمازِ مغرب میں تاخیر نہیں کرے گی۔  “ 
محبتِ الٰہی کا نسخہ : 
(9991)…حضرت سیِّدُناسہل بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے ایساعمل بتائیے کہ جب میں اُسے کروں تواللہ عَزَّ  وَجَلَّاورلوگوں کامحبوب ہو جاؤں۔ محبوبِ خدا، احمدمجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  دنیا سے بے رغبت ہوجاؤ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم سے محبت فرمائے گا اور لوگوں کے مال سے بے رغبت ہوجاؤلوگ تم سے محبت کریں گے ۔ (2) 
(9992)…حضرت سیِّدُناسہل بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ہر شے کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃروزہ ہے ۔  (3) 
(9993)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حبیبِ خدا، محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہربچے ، بڑے ، آزاد یا غلام کی طرف سے ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور صدقۂ فطر دینے کا حکم دیا اور لوگوں نے دو مُد(سوا دوسیر) گندم کو اس کے قائم مقام کرلیا۔ (4)
کسی کو اُس کی جگہ سے اٹھانا منع ہے : 
(9994)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورتاجدارمدینہ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ” کسی کو اس کی جگہ سے اٹھاکر کوئی دوسرا وہاں



________________________________
1 -   مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الصیام، باب تعجیل الافطار، ۲ / ۴۳۱، حدیث: ۱۳
2 -   ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الزھد فی الدنیا، ۴ / ۴۲۲، حدیث: ۴۱۰۲
3 -   ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الصوم زکاة الجسد، ۲ / ۳۴۶، حدیث: ۱۷۴۵، عن ابی ھریرة
4 -   سنن دارمی، کتاب الزکاة ، باب فی زکاة الفطر، ۱ / ۴۸۱، حدیث: ۱۶۶۲