Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
175 - 361
اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نمازادا کرتے توہم میں سے کوئی بھی اپنی پیٹھ اُس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی پیشانی سجدہ میں نہ رکھ دیتے ۔ (1)
(9977)…حضرت سیِّدُناسلیمان بن صُرَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی غیب دان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوۂ احزاب کے دن ارشاد فرمایا: اب وہ ہم سے نہیں بلکہ ہم ان سے لڑیں گے ۔ (2)
شفا والی دو چیزیں: 
(9978)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن  مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ  شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب و  سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  شفا والی دو چیزیں قرآنِ کریم اورشہد تم پر لازم ہیں ۔ (3)
(9979)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  سلطانِ انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ نمازِجمعہ میں حاضرنہیں ہوتے توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: میں چاہتاہوں کہ اپنے پیچھے کسی کونمازپڑھانے کاحکم دوں اورخودجاکرایسے لوگوں کے گھرجلا دوں۔ (4)
خوفِ خداپر مغفرت کا انعام: 
(9980)…حضرت سیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ایک ایسا شخص جنت میں داخل ہوگیاجس نے کبھی کوئی عَملِ خیرنہیں کیا تھا۔ اس نے اپنی موت کے وقت اپنے گھر والوں سے کہا:  جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا پھر مجھے پیس کر میرے ذرّوں کو دوحصے کر کے ایک حصہ صحرامیں  اور دوسرا سمندر میں ڈال دینا۔ پھراللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے صحراا ور دریا کو حکم دیاتوان دونوں نے اس کے منتشر ذرّوں کوجمع کر دیا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس سے فرمایا:  تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے اُبھارا؟ اس نے عرض کی:  ” تیرے خوف نے ۔  “ تو اسی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کی مغفرت فرما دی۔ (5)



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الاذان، باب السجود علی سبعة اعظم، ۱ / ۲۸۵، حدیث: ۸۱۱
2 -   بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة الخندق، وھی الاحزاب، ۳ / ۵۴، حدیث: ۴۱۰۹، ۴۱۱۰
3 -   ابن ماجہ، کتاب الطب، باب العسل، ۴ / ۹۵، حدیث: ۳۴۵۲
4 -   مسلم، کتاب المساجد، باب فضل الصلاة الجماعة، ص۳۲۷، حدیث: ۶۵۲ ، بتغیر قلیل
5 -   مسند امام احمد، مسند ابی سعید، ۴ /  ۲۸، حدیث: ۱۱۰۹۶