پرحیرت کرتے ہو؟جنت میں سعدبن معاذ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کے رومال اس سے زیادہ بہتراورزیادہ نرم ہیں۔ (1)
باری تعالٰی کی عطائیں:
(9974)…حضرت سیِّدُنابراءبن عازبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ غزوۂ خندق کے دن میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ یہ فرما رہے تھے :
وَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَاَنْزِلَنْ سَكِيْنَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِذْ لَاقَيْنَا
اِنَّ الْاُوْلٰى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَةً اَبَيْنَا
ترجمہ: بخدا!اگراللہعَزَّ وَجَلَّکافضل نہ ہوتاتوہمیں ہدایت نہ ملتی اورہم صدقہ کرتے نہ نمازپڑھتے ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تو ہم پرقلبی سکون نازل فرما اور دشمن سے مقابلے کے وقت ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ بے شک ان کفار نے ہم پربلاوجہ زیادتی کی، جب انہوں نے فساد کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کردیا۔ (2)
(9975)…حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیا کسی اورسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عباس بن عبدُ الْمُطَّلِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو(ان کے اسلام لانے سے قبل غزوۂ بدرکے موقع پر)ایک اَنصاری شخص قیدی بناکرلائے تو حضرت سیِّدُناعباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ وہ شخص نہیں ہے جس نے مجھے قیدی بنایا تھا، مجھے تو اس شخص نے قید کیا ہے جس کے سر کے بال اِ س انصاری سے اتنے اتنے زیادہ جھڑے ہوئے تھے توآپ نے انصاری سے ارشادفرمایا: ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کسی مُعَززفرشتے کے ذریعے تمہاری مدد فرمائی ہے ۔ “ (3)
نماز میں اقتداکا انداز:
(9976)…حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم حضور نبی رحمت ، شَفیعِ
________________________________
1 - بخاری، کتاب مناقب الانصار ، باب مناقب سعد بن معاذرضی الله عنه، ۲ / ۵۶۰، حدیث: ۳۸۰۲
2 - بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة الخندق، وھی الاحزاب، ۳ / ۵۲، حدیث: ۴۱۰۴
3 - مسند امام احمد، مسند علی بن ابی طالب، ۱ / ۲۴۹، حدیث: ۹۴۸، بتغیر قلیل