سائل کو خالی نہ لوٹاتے :
(9965)…حضرت سیِّدُناابوسعیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی گئی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمیں کچھ عطا کیجئے ۔ “ تو ارشادفرمایا: تم مجھ سے سوال کرتے ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بخل سے منع فرماتا ہے ۔ (1)
(9966)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قومِ عاد پربھیجی جانے والی ہوا میری اس انگوٹھی کے برابر تھی۔ (2)
(9967)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ نبی محترم، رسولِ مُکَرَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا، خواہش ہوتی تو کھا لیتے اورنا پسند ہوتا تو چھوڑ دیتے ۔ (3)
دوسروں کے حقوق ادا کرو:
(9968)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: عنقریب تم پردوسروں کوترجیح دی جائے گی اورتم ایسے معاملات دیکھوگے جنہیں تم ناپسندکروگے ۔ صحابَۂ کرام نے عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!توآپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: تم پر جو حقوق ہوں انہیں ادا کرواوراپنے حقوق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مانگو۔ (4)
عورت کے لیے جنت میں جانے کا نسخہ:
(9969)…حضرت سیِّدُناابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت، شَفیعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک عورت کواس کے بچوں کے ساتھ دیکھا کہ ایک بچے کواس نے گودمیں اُٹھا رکھا تھااورباقی بچے اس کے اردگردچل رہے تھے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: یہ عورتیں بچے جننے والی، انہیں
________________________________
1 - شعب الایمان، فصل فی المكافاة بالصنائع ، ۶ / ۵۱۹، حدیث: ۹۱۲۸ ، بتغیرقلیل
2 - تفسیر الطبری، سورة الاحقاف، تحت الآیة : ۲۵، ۱۱ / ۲۹۴، رقم: ۳۱۳۰۳، قول ابن عباس
3 - بخاری، کتاب الاطعمة، باب ماعاب النبی صلی الله عليه وسلم طعاما، ۳ / ۵۳۱، حدیث: ۵۴۰۹
4 - سنن کبری بیھقی، کتاب قتال اھل البغی، باب الصبر علی اذی الخ، ۸ / ۲۷۱، حدیث: ۱۶۶۱۵