نجات رحمتِ الٰہی سے ہی ملے گی:
(9959)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی کواُس کا عمل نجات نہیں دلا ئے گا۔ لوگوں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیاآپ کوبھی؟ارشادفرمایا: مجھے بھی نہیں مگریہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اپنے فضل ورحمت سے ڈھانپ لے گا۔ حضرت سیِّدُنا قَبِیْصہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں اتنازائد ہے : ” اورآپ نے اپنا ہاتھ مبارک اپنے سرِاقدس پر رکھ لیا۔ “ (1) جبکہ حضرت سیِّدُنامحمد بن یوسف فِریابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے مروی روایت میں ہے کہ(آپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے عاجزی وانکساری کرتے ہوئے تعلیم اُمَّت کے لئے ارشاد فرمایا: )’’اگر ان(ہاتھوں)کے اعمال کے سبب اُس نے میری پکڑفرمائی تومجھے ہلاکت میں ڈال دے گا۔ “ (2) یہ کہہ کر اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔
جہنم سے بچانے والے اعمال:
(9960)…حضرت سیِّدُنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کے صدقہ کے ذریعے ، اگر وہ بھی نہ ہو تو اچھی بات کے ذریعے (کہ یہ بھی صدقہ ہے )۔ (3)
غم وپریشانی کے اسباب:
(9961)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ناراض کرکے ہرگز کسی کوراضی نہ کرنا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پرہرگز کسی سے حسد مت کرنا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جوتمہیں نہیں دیا اس پر کسی کو ملامت نہ کرنا کیونکہ کسی خواہش رکھنے والے کی خواہش تم تکاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رزق پہنچا سکتی ہے نہ ہی کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی
________________________________
1 - شعب الایمان، باب فی الخوف من الله، ۱ / ۴۷۹، حدیث: ۷۶۶
2 - معجم اوسط، ۲ / ۳، حدیث: ۲۲۹۴
3 - بخاری، کتاب الادب، باب طیب الکلام، ۴ / ۱۰۶، حدیث: ۶۰۲۳