پھراِس کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: ان کا ثواب جنت ہے جس میں وہ داخل ہوں گے اور ” اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے “ یعنی انہیں ایسے لوگوں کی شفاعت کا اختیار دے گا جن پر جہنم واجب ہو چکا اور یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اُن کے ساتھ بھلائی کی ہوگی ۔ (1)
مقروض سے درگزر کاانعام:
(9956)…حضرت سیِّدُناابووائل انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص سے حساب لیاگیاتو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں تھی مگر یہ کہ وہ دنیا میں مال دار تھا اور لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے غلاموں سے کہتا تھا: تم جس مقروض کے پاس مال دیکھو اس سے قرض وصول کرنا اور جسے تنگدست دیکھو اس سے درگزر کرنا شاید اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی مجھ سے درگزر فرمائے ۔ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ” میں اس سے درگزر کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ “ (2)
(9957)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضوررحمَتِ عالَم، نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال کے وقت آپ کی زرہ تین صاع جوکے بدلے رہن(گروی)رکھی ہوئی تھی۔ (3)
کتے سے بھی زیادہ ذلیل انسان:
(9958)…حضرت سیدنا عابِس بن ربیعہرَحْمَۃُ اللہُ تَعَالٰی عَلیہکا بیان ہے کہ میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سنا: اے لوگو!عاجزی اختیار کروکیونکہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سناہے کہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطاکرتا ہے اوراُس سے فرماتا ہے : ” بلند ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تجھے بلندی عطا فرمائی۔ “ تو وہ اپنی نظر میں چھوٹا اور لوگوں کی نگاہ میں بڑا ہوتا ہے اور جوتکبرکرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے پستی میں ڈال دیتا ہے اور اُس سے فرماتا ہے : ” دھتکارا رہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تجھے پست کیاہے ۔ “ تو وہ خودکو بڑا سمجھتا ہے جبکہ لوگوں کی نظر میں چھوٹا ہوتا ہے حتّٰی کہ وہ ایک کتے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجاتا ہے ۔ (4)
________________________________
1 - معجم کبیر، ۱۰ / ۲۰۱، حدیث: ۱۰۴۶۲
2 - شعب الایمان، فصل فی انظار المعسر الخ ، ۷ / ۵۳۳، حدیث: ۱۱۲۴۲
3 - بخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب ماقیل فی درع النبی صلی الله عليه وسلم الخ ، ۲ / ۲۸۶، حدیث: ۲۹۱۶
4 - تاریخ بغداد، ۲ / ۱۰۹، رقم: ۵۰۴، محمد بن ثمامة