Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
168 - 361
(9952)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ انبیا، محبوبِ کبریاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  کسی کو لائق نہیں کہ وہ کہے :  ” میں یونس بن متٰی سے افضل ہوں(1)۔  “ (2)
سرگوشی کی ممانعت: 
(9953)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ کریم ومہربان آقا، دو عالَم کے داتاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب تم تین ہو تو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو افراد آپس میں سرگوشی نہ کرو کہ یہ عمل ا سے  غمگین  کرے  گا۔ (3)
(9954)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت، شَفیعِ امَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرو اور کسی کا تحفہ رَد کرو نہ مسلمانوں کو چوٹ پہنچاؤ۔ (4)
(9955)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیتِ طیبہ تلاوت فرمائی: 
لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ- (پ۲۲، فاطر: ۳۰)            ترجمۂ کنز الایمان: تاکہ ان کے ثواب اُنهیں بھرپور دے اور اپنے فضل سے اَور زیادہ عطا کرے ۔



________________________________
1 -   مُفَسِّر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ578پر اس کی شرح میں فرماتے ہیں:  یعنی کوئی اپنے کو حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَامسے افضل نہ کہے کیونکہ کوئی ولی خواہ کسی درجے کا ہو نبی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتا، نبی کی شان تو بڑی ہے ۔ تمام جہان کے اولیاء مل کر صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچتے اور اگر ” میں “  سے مراد حضورصَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم ہیں تو اس کے مطلب وہ ہی ہیں جو ابھی عرض کئے گئے ۔ اور وہ یہ ہیں : یعنی مجھے دوسرے نبیوں پر ایسی بزرگی نہ دو جس سے دوسرے نبی کی توہین ہوجاوے یا جس سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آئے یا نفْسِ نبوت میں ترجیح نہ دو کہ کسی کو اصلی نبی مانو کسی کو ظلی، بروزی عارضی نبی لہٰذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے کہ ” تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ- “ (پ۳، البقرة: ۲۵۳)اورنہ اس حدیث کے خلاف کہ اَنَاسَیِّدُوَلَدِاٰدَم۔ اپنی طرف سے گھڑ کر مسائل بیان نہ کرو، جو افضلیت قرآن یا حدیث سے ثابت ہو وہ بیان کرو لہٰذا حدیث واضح ہے ، حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سیِّدُالاوّلین والا آخرین ہیں۔ (مراۃ المناجیح، ۷ / ۵۷۶)
2 -    بخاری، کتاب التفسیر، باب انا اوحینا الیک   الخ ، ۳ / ۲۱۱، حدیث: ۴۶۰۳
3 -   مسلم، کتاب السلام، باب تحریم مناجاة الاثنین   الخ، ص۱۲۰۱، حدیث: ۲۱۸۴
4 -   مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود، ۲ /  ۶۹، حدیث: ۳۸۳۸