Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
165 - 361
 تشریف لائے اور ہمیں اس نام سے بہتر نام دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ” اے گروہِ تُجَّار! اِس خرید وفروخت میں بے ہودہ بات اورقَسم شامل ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے ساتھ صدقہ ملا لیا کرو۔  “ (1)
(9942)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اہْلِ کتاب سے ایک عالِم حضور نبی  مُکَرَّم ، رسولِ محترمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضر ہوااور کہنے لگا: اے محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!اللہ عَزَّ   وَجَلَّ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر ، پہاڑوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر اور زمین کو ایک انگلی پر رکھے گاپھرارشادفرمائے گا:  ” میں بادشاہ ہوں۔  “ (2)اس کی بات پررسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماتنا مسکرائے کہ آپ کی مبارک داڑھیں ظاہر ہوگئیں پھر آپ (3)نے یہ آیت تلاوت کی: 
وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ﳓ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ (پ۲۴، الزمر: ۶۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اوراُنھوں نے اللہکی قدرنہ کی جیساکہ اس کا حق تھااوروہ قیامت کے دن سب زمینوں کوسمیٹ دے گا۔ (4)
وعدے اور قسم پر پٹائی: 
(9943)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  شہنشاہِ کون و مکان، نبی آخر



________________________________
1 -   مسند امام احمد، حدیث قیس بن ابی غرزة، ۵ /  ۴۵۶، حدیث: ۱۶۱۳۸
2 -   مُفَسِّر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ358پراس کے تحت فرماتے  ہیں: اس عالِم نے غالبًا یہ مضمون توریت شریف یا کسی اور اپنی دینی کتاب سے بیان کیا ہوگا، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس کی تردید نہ کی بلکہ تصدیق فرمائی لہٰذا درست ہے ۔ ان چیزوں کو انگلیوں پر رکھنے سے مراد نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی تسخیر ہے یہ ہی بتانا مقصود ہے ۔ اردو میں کہتے ہیں کہ تم تو مجھ کو اپنی انگلیوں پر گھماتے ہو یعنی مجھ پر پورے پورے قابض ہو، تمہارے اشاروں پر میں کام کرتا ہوں  لہٰذا یہ بالکل واضح ہے اگرچہ آج بھی ہر چیز رب کے قبضہ میں ہے مگر اس دن اس کا ظہور ہوگا۔ 
3 -   ظاہر یہ ہے کہ یہ آیتِ کریمہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے تلاوت کی اورممکن ہے کہ حضرت ابن مسعود نے تلاوت کی ہو اس پوپ کی تصدیق کے لیے  ” مَا قَدَرُوا اللّٰهَ “  میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی شان نہ جانی کہ اس کی یہ قدرتیں جانتے ہوئے اس کے لیے اولاد یا شریک مانا ایسی قدرتوں والا اولاد شریک سے پاک ہے کہ اولاد اور شریک اختیار کر نا مجبوری کی بنا پر ہوتا ہے فانی اور کمزور کو بقاء نسل اور دشمنوں کے مقابلہ کے لیے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے ، یوں ہی شریک وہ اختیار کرتا ہے جو اکیلا کچھ نہ کرسکے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۷ /  ۳۵۸)
4 -   معجم کبیر، ۱۰ / ۱۶۴، حدیث: ۱۰۳۳۴