صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں رہا، آپ نے کبھی مجھے کچھ بھول جانے یاکچھ نقصان ہوجانے پر ملامت نہیں فرمائی اوراگرآپ کے گھروالوں میں سے کوئی مجھے ملامت کرتاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے : ” جانے دو، تقدیرکا لکھا ہو کر ہی رہتا ہے ۔ “ (1)
حضرت سیِّدُناامام ابونُعَیْم اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانی فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناامام ابو عبْدُاللہ سفیان بن سعید ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیاپنے علم اورروایات کی وسعت میں نہ ختم ہونے والاسمندراور نہ موڑا جاسکنے والا سیلاب تھے ۔ یہاں ہم اختصار کے پیْشِ نظر اُن کے شیوخ کے تذکرہ سے اعراض کرتے ہوئے ان کی روایت کردہ چند احادیْثِ کریمہ کو بیان کریں گے ۔
زمانَۂ جاہلیت کے اعمال پر پکڑ:
(9939)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیادورِجاہلیت میں کیے ہوئے اعمال پربھی ہماری پکڑہوگی؟حضورنبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ” جواسلام میں اچھارہااس کی زمانَۂ جاہلیت کے بُرے اعمال پر پکڑ نہ ہو گی اور جواسلام میں بُرا ثابت ہوااُس کی زمانَۂ جاہلیت اور زمانَۂ اسلام دنوں کے بُرے اعمال پر پکڑ ہو گی۔ “ (2)
(9940)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سلطانِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جنت تم میں سے ہر ایک سے اس کے جوتے کے تسمے سے زیادہ قریب ہے اور جہنم بھی یوں ہی ہے ۔ (3)
تاجروں کو صدقہ کا حکم:
(9941)…حضرت سیِّدُنا قیس بن ابوغَرَزَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ طیبہ میں آٹا فروخت کیا کرتے تھے اورہمیں ” سَمَاسِرَہ “ کہاجاتاتھا، ہمارے پاس شہنشاہِ مدینہ، سلطانِ باقرینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
________________________________
1 - مسندامام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۴۶۱، حدیث: ۱۳۴۱۷
2 - مسلم، کتاب الایمان، باب ھل یواخذ باعمال الجاھلیة، ص۷۴، حدیث: ۱۲۰
3 - بخاری، کتاب الرقاق، باب الجنة اقرب الخ، ۴ / ۲۴۳، حدیث: ۶۴۸۸