Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
159 - 361
کاشانہِ اَقدس کا ادب: 
(9913)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ  حضور نبی اکرم، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک عورت کو شرفِ زَوجیت سے نوازا تو مجھے لوگوں کو بلانے بھیجا، لوگ حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں کھانا کھلایا، پھر میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں گھرسے باہر نکلا ، چلتے چلتے آپ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دروازے تک پہنچے ، پھرآپ واپس لوٹ آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس  آگیا، دیکھا تو ابھی بھی دوافراد وہاں موجود تھے ، اس پر یہ آیتِ طیبہ نازل ہوئی: 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ (پ۲۲، الاحزاب: ۵۳)	ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو نبی کے گھروں میں  نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ۔ (1)	
(9914)…حضرت سیِّدُنا وہب بن خَنْبَشْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ رحمتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  رمضان میں ایک عمرہ ایک  حج کے برابر ہے ۔ (2)
سفارش  پر اجروثواب: 
(9915)…حضرت سیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرسوال کرتا توسلطانِ دوجہان، شہنشاہِ کون ومکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حاضرین کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرماتے :  سفارش کرو تاکہ تمہیں ثواب ملے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے ۔ (3)
(9916)…حضرت سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ہم قربانی کا گوشت کھایا بھی کرتے اور سفر میں ساتھ بھی رکھا کرتے تھے ۔ (4)



________________________________
1 -   ترمذی، کتاب التفسیر، باب من سورة الاحزاب، ۵ / ۱۴۹، حدیث: ۳۲۳۰
2 -   ابن ماجہ، کتاب المناسک ، باب العمرة فی رمضان، ۳ / ۴۵۷، حدیث: ۲۹۹۱
3 -   بخاری، کتاب الادب، باب ۳۷، ۴ / ۱۰۷، حدیث: ۶۰۲۸
4 -   مسند الشامیین، ۱ / ۲۱۰، حدیث: ۳۷۶