Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
157 - 361
دورِ نبوت کی رمی کا منظر: 
(9906)…حضرت سیِّدُنا قُدامہ بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:  میں نے حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو صہبا اونٹنی پرسوار جُمرۂ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا ہے ، اس وقت کسی کومارا گیا نہ دھکا دیا گیا اور نہ ہی ” ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ “ کی آوازیں تھیں ۔ (1)
(9907)…حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اختلاف آ ج کے لوگوں کے لئے رحمت ہے ۔ (2)
جہنم سے محفوظ آنکھیں: 
(9908)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی مکرم، شَفیعِ مُعظّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: دو آنکھیں جہنم کی آگ نہ دیکھیں گی: (۱)وہ آنکھ جوتنہائی میں خو فِ خدا سے روئے اور (۲)وہ آنکھ جوراہِ خدا میں پہرا دیتے ہوئے رات گزارے ۔ (3)
(9909)…حضرت سیِّدُناعُبادہ بن صامِترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: حضورنبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس ایک بڑی چادراوڑھے تشریف لائے ، اس وقت  آپ کے جسم پر اور کوئی کپڑا نہیں تھا پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (4)
(9910)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے میت کے ترکے سے اُس کے شوہراوروالدین کے حصے میں دیگرلوگوں سے اختلاف کیااور فرمایا: ماں کو کل مال کا تہائی دیا جائے گا(5)۔ (6)



________________________________
1 -    نسائی، کتاب مناسک الحج، باب الرکوب الی الجمار واستظلال المحرم، ص۴۹۷، حدیث: ۳۰۵۸
2 -   طبقات ابن سعد، ۵ / ۱۴۴، رقم:  ۷۳۷، القاسم بن محمد
3 -   مستدر ک  حاکم، کتاب الجھاد ، باب ثلاثة اعین لاتمسھا النار، ۲ /  ۴۰۳، عن ابی ھریرۃ، بتغیر قلیل
4 -   مسند البزار، حدیث عبادة بن الصامت، ۷ /  ۱۵۱، حدیث: ۲۷۰۹،  بتقدم وتاخر
5 -   مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الفرائض، باب فی امراة وابوين من كم هی ؟، ۷ / ۳۲۷، حدیث: ۹
6 -   حضرت سیِّدُناعمرفاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جب کسی عورت کے مرنے کے وقت اس کا شوہر اور ماں باپ ہوں تو شوہر کو نصف ملے گا اور ماں کو باقی کا تہائی۔ (سنن دارمی، کتاب الفرائض، باب فی  زوج وابوین...الخ، ۲ /  ۴۴۳، حدیث: ۲۸۶۵)
	مسئلہ:  اگر شوہر یا بیوی کا انتقال ہو جائے اور دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ہو اور اس کے ساتھ میت کے ماں باپ بھی ہوں تو اس صورت میں باپ توماں کے حصہ کو گھٹا دے گا کہ شوہر یا بیوی کے حصہ کے بعد جو بچے گا وہ اس کا تہائی(تیسرا حصہ) پائے گی۔ اس کو مثال سے یوں سمجھنا چاہیئے ۔ 
 
	اس کی توضیح یہ ہے کہ شوہر کو نصف ملا اور ماں کو شوہر کا حصہ نکالنے کے بعد جو بچا تھا اس میں سے تہائی ملا حالانکہ ماں کا حصہ کل مال کا تہائی ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم ماں کو کل مال کا تہائی دیتے تو اس کا حصہ باپ کے برابر ہو جاتا جو درست نہیں، اس لئے باپ نے ماں کے حصہ کو گھٹا دیا۔ (بہارِ شریعت، حصہ۲۰، ۳ /  ۱۱۱۷، ملتقطاً)