پانچ چیزوں کی ممانعت:
(9904)…حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شَفیعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ” اسلام میں عَقْد، اِسْعَاد، شِغَار ، جَلَب اور جَنب کی کوئی گنجائش نہیں۔ “ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: عَقْد (1)سے مرادحلف ہے ، اِسْعَاد سے مراد نوحہ کرنا(2)، شِغَار(سے مراد نکاح شغار) (3)، جَلب
سے مراد گھوڑدوڑ میں کسی اور شخص کاگھوڑے کو تیز دوڑانے کے لئے ڈانٹنااور مارنااور جنب سے مراد گھڑدوڑ میں اضافی گھوڑاساتھ رکھنا(تا کہ پہلا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہوجائے ۔ ) (4) جوئے کے لحاظ سے اس کی ممانعت ہے ۔ (5)
(9905)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ مُعلّمِ کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نمازِوتر میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے ۔ (6)
________________________________
1 - ایک روایت میں ” لَاعَقَرَفیِ الْاِسْلَام “ کے الفاظ آئے ہیں(مسند امام احمد ، ۴ / ۳۹۲، حدیث: ۱۳۰۳۱)جس سے زمانَۂ جاہلیت کے ایک عمل کی نفی کی گئی ۔ لوگ اپنے مردوں کی قبروں پر اونٹ ذبح کرکے کہتے تھے : یہ قبروالا اپنی زندگی میں مہمانوں کے لئے اونٹ ذبح کیا کرتا تھا تو اب اس کی وفات کے بعد ہم ویساہی کام کرکے اُسے بدلہ دے رہے ہیں ۔ (فیض القدیر، ۶ / ۵۶۲، حدیث: ۹۹۰۹)
2 - اس نوحے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی عورت نوحہ کرنے والی عورتوں کے ساتھ شامل ہوکران کی نوحہ کرنے میں مدد کرے ۔ منقول ہے کہ زمانہ جاہلیت کی عورتیں ایک سال تک نوحہ کرنے میں ایک دوسرے کی مددکیا کرتی تھیں تو اس حدیث شریف میں ایسا کرنے سے منع فرمادیا گیا۔ (النھاية فی غریب الاثر، سین مع العین، ۲ / ۳۳۰)
3 - یہ نکاح زمانہ جاہلیت میں رائج تھاجس کی صورت یہ ہوتی کہ کوئی شخص دوسرے سے کہتا : ” تو اپنی بہن یا بیٹی یا جس عورت کا توسرپرست ہے اس کانکاح مجھ سے کردے اس کے بدلے میں اپنی بہن یابیٹی یاجوعورت میری سرپرستی میں ہے اس کانکاح تیرے ساتھ کردوں گا۔ “ اوران کے مابین کوئی مہرمقرر نہیں ہوتا تھابس ایک عورت دوسری عورت کا بدل ہوجاتی تھی۔ (شرح الزرقانی علی الموطأ، کتاب النکاح، باب جامع مالا یجوز من النکاح، ۳ / ۱۹۹، حدیث: ۱۱۵۹)
4 - یہ بات ” مسابقت “ سے تعلُّق رکھتی ہے ۔ ” مسابقت کامطلب یہ ہے کہ چندشخص آپس میں طے کریں کہ کون آگے بڑھ جاتا ہے جوسبقت لے جائے اس کویہ دیاجائے گایہ مسابقت صرف تیراندازی میں ہوسکتی ہے یاگھوڑے ، گدھے ، خچر میں۔ “ (بہار شریعت، حصہ۱۶، ۳ / ۶۰۷)
نوٹ: مسابقت کی جائزوناجائزصورتوں کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197صفحات پرمشتمل کتاببہارشریعت ، جلد3، صفحہ 605تا609 کا مطالعہ کیجئے ۔
5 - مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۳۹۲، حدیث: ۱۳۰۳۱، بتغیر
6 - مصنف عبد الرزاق، کتاب الصلاة، باب القنوت، ۳ / ۳۷، حدیث: ۵۰۰۶