Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
155 - 361
(9900)…حضرت سیِّدُناقیس بن عاصمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آکر اسلام قبول کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں بیری کے پتوں والے پانی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ (1)
غربت وتنگدستی کا اظہار پسند نہیں: 
(9901)…حضرت سیِّدُنا زُہَیْربن ابوعلقمہ ضَبْعِیرَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ایک شخص کوبگڑی ہوئی شکل وصورت میں دیکھ کر فرمایا:  کیا تمہارے پاس مال ہے ؟اس نے عرض کی:  جی ہاں! ہر قسم کا مال ہے ۔ ارشاد فرمایا: تو پھر مال کا اثر تجھ پر نظرآنا چاہئے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکویہ پسندہے کہ اس کے بندے پرمال کااچھااثردکھائی دے اوراُسے غُربت وتنگدستی کااظہارپسندنہیں ۔ (2)
(9902)…حضرت سیِّدُناابورِمْثَہ تیمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ  بارگاہِ رسالت میں حاضر ہواتو پیارے آقا، مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے والد سے فرمایا:  کیا یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ انہوں نے عرض کی:  جی ہاں ۔ ارشاد فرمایا:  اس کے جرم کی وجہ سے تمہاری اور تمہارے  جرم کے سبب اس کی پکڑ نہ ہو گی۔ (3)
سفر میں سنت و نفل ادا کیجئے : 
(9903)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے کسی نے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضر میں  ظہر کی چار جبکہ سفر میں دو رکعات مقرر فرمائیں  توہم حضراور سفرمیں فرض سے پہلے اوراس کے بعدنماز پڑھا کرتے تھے (4) ۔ (5)



________________________________
1 -    نسائی، کتاب الطھارة، باب ذکر مایوجب الغسل   الخ، ص۳۸، حدیث: ۱۸۸
2 -    معجم کبیر، ۵ / ۲۷۳، حدیث: ۵۳۰۸
3 -   مسند امام احمد، حدیث ابی رمثة، ۲ /  ۶۹۸، حدیث: ۷۱۲۹
4 -   دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ499صفحات پر مشتمل کتاب ’’نماز کے احکام‘‘صفحہ315پر مرقوم ہے : سنتوں میں قصر نہیں بلکہ پوری پڑھی جائیں گی، خوف اور رَوارَوی(یعنی گبھراہٹ)کی حالت میں سنتیں معاف ہیں اور امن کی حالت میں پڑھی جائیں گی۔ (عالمگیری، ۱ / ۱۳۹)
5 -   سنن کبری بیھقی، کتاب الصلاة، باب تطوع المسافر، ۳ / ۲۲۵، حدیث: ۵۵۰۶، بتغیر