Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
154 - 361
 کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا(1)۔ (2)
مصیبت چھپانے کا ثواب: 
(9897)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: تین چیزیں نیکی کے خزانے ہیں: (۱)…پوشیدہ صدقہ(۲)…شکوہ نہ کرنااور (۳)…مصیبت کو چھپانا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :  میں جب کسی بندے کو مصیبت (بیماری وغیرہ) میں مبتلا کروں اور وہ صبر کرے اور اپنے ملنے والوں سے شکوہ نہ کرے تو میں پہلے سے بہتر گوشت اوربہتر خون عطا فرماتا ہوں پھر اگر اسے صحت عطا کروں تو اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا اور اگر اُسے موت دوں تواس کا ٹھکانا میری  رحمت ہوتی ہے ۔ (3)
(9898)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکہیں تشریف لے جارہے تھے آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: میرے آگے چلواور میرے پیچھے ملائکہ کے لئے جگہ خالی کر دو۔ (4)
خطبے میں  ” اما بعد “ کہنا: 
(9899)…حضرت سیِّدُناسمرہ بن جندبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سورج گہن کے وقت خطبہ دیا اوراُس میں  ”  اَمَّا بَعْدُ “ فرمایا۔ (5)



________________________________
1 -   پہلے یہ شخص مسلمان تھا بعد میں اس نکاح کو حلال سمجھ کر کافر و مرتد ہوگیا لہٰذا اسے قتل کرنے اور اس کا مال ضبط کرنے کا حکم صادر ہوا۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ جو مدعی اسلام حرام عورتوں سے نکاح جائز مانے و ہ مرتد ہے اور جو حرام سمجھ کر یہ نکاح کرے وہ بدترین فاسق ہے اور جسے حرمت کی خبر ہی نہ ہو وہ نکاح کرلے اسے فورًا علیٰحدگی کا حکم دیا جائے دوسرے شخص (یعنی اس نکاح کو حرام سمجھنے والے )نے اگرصحبت بھی کرلی تو یہ صحبت محض زنا ہوگی اور بچہ کا نسب اس سے ثابت نہ ہوگا اور تیسرے شخص (یعنی اس نکاح کی حرمت سے بے خبر)نے اگرصحبت کرلی تو یہ وطی بالشبہ ہوگی بچہ صحیح النسب ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۴۹)
2 -   ابن ماجہ، كتاب الحدود، باب من تزوج امراة ابیه ، ۳ / ۲۵۲، ۲۵۳، حدیث: ۲۶۰۷، ۲۶۰۸
3 -   مسند الشھاب، ۱ /  ۶۲، حدیث: ۴۶
4 -    مسند  الحارث، کتاب علامات النبوة، باب مشی الملائكة خلفه ، ۲ / ۸۷۹، حدیث: ۹۴۶
5 -   نسائی، کتاب الکسوف، باب کیف الخطبة فی الکسوف، ص۲۶۰، حدیث: ۱۴۹۸