(9891)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ دلوں کے چین ، سرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حسنیْنِ کَرِیْمَیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی طرف سے ایک ایک مینڈھے کاعقیقہ کیا۔ (1)
(9892)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے : ایک شخص نے اپنی کنواری یا ثیبہ(طلاق یافتہ یابیوہ)بیٹی کا نکاح کیاتو بیٹی نے اسے قبول نہ کیا، پھرحضورنبی رحمت ، شفیع اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اس کے نکاح کو رد فرما دیا۔ (2)
(9893)…حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ” اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ “ (سورۂ انشقاق) اور ” اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ “ (سورۂ علق) میں سجدہ کیا۔ (3)
(9894)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتے ہیں: حضورنبی مکرم، شَفیعِ مُعظّمصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک یہودی اورایک یہودن کوبَلَاط(مسجد نبوی کے دروازے کے نزدیک ایک جگہ)کے پاس رجم کی سزا دی۔ (4)
مسئلہ رضاعت کا بیان:
(9895)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ حضورنَبِیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے ہاں تشریف لائے ، اس وقت میرے پاس ایک صاحب موجود تھے توآپ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! اپنے بھائیوں کے بارے میں غور کر لو (کہ کون تمہارا رضاعی بھائی ہے ) کیونکہ رضاعت کا تعلُّق دودھ پینے والی عمر سے ہے ۔ (5)
(9896)…حضرت سیِّدُنا حارث بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے ایک ایسے شخص کو قتل کرنے اور اس کا مال ضبط کرنے بھیجا جس نے اپنے باپ
________________________________
1 - ابو داود، کتاب الضحایا، باب العقیقة، ۳ / ۱۴۳، حدیث: ۲۸۴۱
2 - معجم کبیر، ۱۱ / ۲۸۱، حدیث: ۱۲۰۰۱، بتغیر
3 - مسلم، کتاب المساجد، باب سجود التلاوة، ص۲۹۱، حدیث: ۵۷۸
4 - مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰه بن عمر، ۲ / ۳۳۵، حدیث: ۵۲۷۶
5 - بخاری، کتاب بدء الخلق، باب الشھادة علی الانساب الخ ، ۲ / ۱۹۲، حدیث: ۲۶۴۷، بتغیر قلیل