Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
152 - 361
(9888)…حضرت سیِّدُنا موسٰی بن طلحہ بن عُبَـیْدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُناعَمْروبن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے متعلق فرمایا: یہ ہدایت یافتہ ونیک چلن انسان ہے ۔ (1)
نمازِ استسقاء میں کیاانداز ہو؟
(9889)…حضرت سیِّدُنااسحاق بنعبداللہبن کنانہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں: مجھ سے میرے والدنے بیان کیاکہ مجھے ایک حاکم نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس نمازِاستسقاءکے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے بیان کیاکہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگڑگڑاتے ، عاجزی و انکساری کااظہار کرتے ہوئے نمازِاستسقاء کے لئے تشریف لے گئے  تو خطبہ دیا جو تمہارے اس خطبے کی طرح نہ تھاپھر دعا کی اور عیدین کی نماز کی طرح دو رکعت پڑھائیں۔ (2)
	حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: میں نے حضرت اسحاق بنعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: کیاآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خطبے سے پہلے نمازپڑھائی یااس کے بعد؟انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ 
ہر حال میں سنت کی پیروی : 
(9890)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا: جب سے میں نے رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوحجرِاسودکوچومتے دیکھاہے تب سے آسانی ہویامشکل کسی حال میں حجرِ اسودکوچومناترک نہیں کرتا(3)۔ (4)



________________________________
1 -   مسند البزار، مسند طلحة، ومما روی موسی بن طلحة، ۳ /  ۱۵۹، حدیث: ۹۴۴
2 -   نسائی، کتاب الاستسقاء، باب جلوس الامام علی المنبرللاستسقاء، ص۲۶۱، ۲۶۴، حدیث: ۱۵۰۵، ۱۵۱۸
3 -   (حجراسودکوچومتے ہوئے )اس بات کاخیال رکھیے کہ لوگوں کوآپ کے دھکے نہ لگیں کہ یہ قوت کے مظاہرہ کی نہیں، عاجِزی اورمسکینی کے اظہارکی جگہ ہے ۔ ہُجُوم کے سبب اگربوسہ مُیَسَّرنہ آسکے تونہ اوروں کوایذادیں نہ خوددَبیں کچلیں بلکہ ہاتھ یالکڑی سے حجراسودکوچھوکراُسے چوم لیجئے ، یہ بھی نہ بن پڑے توہاتھوں کااشارہ کرکے اپنے ہاتھوں کوچوم لیجئے ، یہی کیاکم ہے کہ مکی مدنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک منہ رکھنے کی جگہ پرآپ کی نگاہیں پڑرہی ہیں۔ حجرِاسودکوبوسہ دینے یالکڑی یاہاتھ سے چھوکرچومنے یاہاتھوں کااشارہ کرکے انھیں چوم لینے کو’’اِسْتِلام‘‘کہتے ہیں۔ (رفیقُ الحرمین، ص۹۶)
4 -   نسائی، کتاب مناسک الحج، باب ترک الاستلام الرکعتین الاخرین، ص۴۸۰، حدیث: ۲۹۵۰