کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی اُسے دنیامیں پاکیزہ رزق عطا فرمائیں گے ۔ (1)
حج جلدی کرلو:
(9884)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مَکۂ مکرمہ کی طرف سفر کے لئے جلدی کرو کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کونسا مرض یا حاجت لاحق ہونے والی ہے ۔ (2)
(9885)…حضرت سیِّدُنا رِفاعَہ بن رافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رحمَتِ کونین ، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: بروزِقیامت تاجرفاسق وفاجراٹھائے جائیں گے سوائے ان کے جو پرہیزگار، نیک اور سچے ہیں۔ (3)
اقامت کہنے کا حق دار:
(9886)…حضرت سیِّدُنازِیاد بن حارِث صُدائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حبیْبِ خدا، پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے اذان دی وہی اقامت کہنے کا زیادہ حقدار ہے ۔ (4)
(9887)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں: ایک دن رحمَتِ عالَم، نُوْرِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے علم ہوتا جو اب ہواتوآج میں نے جوکیاوہ نہ کرتا۔ میں نے عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کیاہے ؟ارشاد فرمایا: میںبَیْتُاللہمیں داخل ہواہوں اورمجھے خوف ہے کہ میرے بعدآنے والایہ کہے : ” میں نے حج تو کیا لیکن بَیْتُ اللہ میں داخل نہیں ہوا۔ (5) “ حالانکہ بَیْتُاللہمیں داخل ہوناہم پرفرض نہیں کیاگیا، ہم پرمحض طواف فرض کیا گیا ہے ۔
________________________________
1 - تفسیر الطبری، پ۱۴، سورة النحل، تحت الایة: ۹۷، ۷ / ۶۴۱، رقم: ۲۱۸۹۶
2 - سنن کبرٰی بیھقی، کتاب الحج، باب ما یستحب من تعجیل الحج، ۴ / ۵۵۵، حدیث: ۸۶۹۵
3 - ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی التجار وتسمیة، ۳ / ۵، حدیث: ۱۲۱۴
4 - فردوس الاخبار، ۲ / ۳۰۲، حدیث: ۶۲۸۶
5 - مسند امام احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ / ۴۹۳، حدیث: ۲۵۲۵۲