مٹی میں مال کا ضیاع:
(9876)…حضرت سیِّدُنا قیس بن ابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہے کہ ہم حضرت سیِّدُناخَبَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس اُن کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے ، انہیں پیٹ پر سات جگہ داغا گیا تھا ۔ اُس وقت ایک دیوار تعمیر ہو رہی تھی جسے دیکھ کر انہوں نے فرمایا: مسلمان کواپنے ہر خرچ پر اجر دیا جاتا ہے سوائے اس مال کے جووہ اس مٹی کی عمارت میں خرچ کرتا ہے ۔ (1)
(9877)…حضرت سیِّدُناجریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: پہلے زمین کا دایاں(جنوبی)حصہ خراب ہوگا اور پھر بایاں (شمالی)حصہ خراب ہوگا۔ (2)
دونوں ہاتھ خیر سے بھرگئے :
(9878)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابو اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں قرآنِ پاک سیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا لہٰذا آپ مجھے ایسی شے سکھادیجئے جو مجھے کافی ہوجائے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ تم یہ پڑھا کرو: ” سُبْحٰنَ اللهِ وَالْحَمْدُلِلَّہِ وَلَااِلٰهَ اِلَّااللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْم یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے حمد ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے ، نیکی کرنے کی توفیق اور گناہ سے بچنے کی قوت اللہ بلندوبرترہی کی طرف سے ہے ۔ “ پھر آپ نے اس کی دائیں مٹھی بند کر دی، اس شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے ، میرے لئے کیا ہے ؟ ارشاد فرمایاکہ یہ پڑھا کرو: ” اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِيْ وَتُبْ عَلَيَّ وَارْزُقْنِيیعنی اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، میری توبہ قبول فرما اور مجھے رزق عطا فرما۔ “ راوی فرماتے ہیں : پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس کی
________________________________
1 - مسند امام احمد، حدیث خباب بن الارت، ۷ / ۴۵۳، حدیث: ۲۱۱۲۶
2 - معجم اوسط، ۲ / ۳۵۳، حدیث: ۳۵۱۹، بتقدم وتاخر