صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” جنتی جنت کے لئے اورجہنمی جہنم کے لئے ہیں ۔ “ پھر لوگ چلے گئے اوروہ تقدیر کے معاملے میں اختلاف نہ رکھتے تھے ۔ (1)
بڑے کو ترجیح :
(9868)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ، شَفیعِ مُعظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میں (خواب میں) پانی پلا رہا تھا اور ایک شخص میری دائیں جانب تھا جبکہ دوسرا میری بائیں طرف تھا جو مجھ سے زیادہ جوان لگ رہا تھا، میں جوان کو پانی دینے لگا تو مجھ سے کہا گیا: ” بڑے کو دو۔ “ (2)
(9869)…حضرت سیِّدُنا لَقِیط بن صَبِرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو(سورۂ اٰلِ عمران کی آیت۱۶۹میں زَبرکے ساتھ) ” وَلَا تَحْسَبَنَّ “ پڑھتے سناہے اورآپ نے ” وَلَا تَحْسِبَنَّ “ نہیں پڑھا۔ (3)
(9870)…حضرت سیِّدُناثابت بن قیسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رحمتِ عالم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے کچھ قرض لیا، پھر جب واپس کیا تو فرمایا: قرض کا بدلہ تعریف اورپوری ادائیگی ہے ۔ (4)
(9871)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مُغَفَّل مُزَنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر کتے حیوانات میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں ان سب کے قتل کا حکم دیتا پس تم ہر خالص کالے کتے کو قتل کردو(5)۔ (6)
________________________________
1 - مسند البزار، مسند ابن عباس، الشعبی عن ابن عباس، ۱۲ / ۱۸۳، حدیث: ۵۸۳۳
2 - تخریج نہیں ملی۔
3 - ابو داود، کتاب الحروف والقراءات، باب ۴، ۴ / ۴۴، حدیث: ۳۹۷۳
4 - مسند امام احمد، حدیث عبد اللّٰہ بن ابی ربیعة، ۵ / ۵۲۴، حدیث: ۱۶۴۱۰ ، بتغیرقلیل
5 - یہاں (صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ حیوانات کا ذبح کرنا صرف دو وجہ سے جائز ہے یا نفع حاصل کرنے کے لیے یا ان کا نقصان دفع کرنے کے لیے ، چونکہ خالص کالا کتا فائدہ کم دیتا ہے نقصان زیادہ اس لیے اس کے مار دینے کا حکم ہے یہ حکم بھی منسوخ ہے ۔ اب صرف نقصان دہ کتا ہلاک کیا جائے کالا ہو یا اور رنگ کا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۶۵۸)
6 - ترمذی، کتاب الاحکام والفوائد، باب ماجاء فی قتل الکلاب، ۳ / ۱۵۷، حدیث: ۱۴۹۱