وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اُمرا کے تحائف دھوکا ہیں۔ (1)
(9864)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضورسرورِ ذیشاں، مالکِ کون ومکاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ڈھال چرانے پرچورکے ہاتھ کٹوائے جس کی قیمت تین درہم تھی(2)۔ (3)
کتوں کو مارنے کا حکم:
(9865)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیاہے (4)۔ (5)
قاتل اور مُعاوِن کی سزا:
(9866)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر ایک شخص نے کسی کوقتل کیااوردوسرے نے اُسے پکڑا ہوا تھا تو قاتل کوقتل کیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید میں ڈالا جائے گا۔ (6)
(9867)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات
________________________________
1 - معجم اوسط، ۳ / ۴۰۹، حدیث: ۴۹۶۹
2 - مُفَسِّر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ302 پر اس حدیْثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: اس میں اختلاف ہے کہ کتنے مال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے ۔ امام شافعیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکے نزدیک تین درہم کا مال چرانے پر ہاتھ کٹے گا ان کی دلیل یہ حدیث ہے ، ہمارے امام اعظم(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) کے نزدیک پورے دینار کی قیمت کامال چرانے پر ہاتھ کٹے گاامام اعظمقُدِّسَ سِرُّہٗ کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے مرفوعًا اور موقوفًا دونوں طرح مروی ہے کہ لَایُقْطَعُ اِلَّا فِیْ دِیْنَارٍ یعنی چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا مگر ایک دینار میں، امام اعظم(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) کے ہاں دینار دس درہم کا ہے لہٰذا دس درہم کی قیمت کے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کٹے گا۔
3 - مسلم، کتاب الحدود ، باب حدالسرقة ونصابها، ص۹۲۶، حدیث: ۱۶۸۶
4 - اب حکم یہ ہے کہ بے ضررکتوں کے قتل کاحکم منسوخ ہے خواہ کالے ہوں یاکچھ اور، اورضرروالے خصوصاًدیوانے کتے کاقتل ضروری ہے اوربلاضرورت کتاپالنامنع ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۶۵۸)
5 - بخاری، کتاب بدء الخلق، باب اذا وقع الذباب الخ ، ۲ / ۴۰۹، حدیث: ۳۳۲۳
6 - دار قطنی، کتاب الحدود، ۳ / ۱۶۷، حدیث: ۳۲۴۳