درخت کی بارگاہِ رسالت میں حاضری:
(9854)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اُس وقت حضورجانِ عالَم، مالکِ کوثر و جنتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رنجیدہ بیٹھے تھے کیونکہ مَکۂ مکرمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کو پتھر مارے تھے ۔ حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے ؟ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی: آپ چاہیں تو کوئی نشانی دکھاؤں۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ہاں۔ حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے گھاٹی کی دوسری جانب موجودایک درخت کو دیکھ کرعرض کی: آپ اس درخت کو بلائیے ۔ حضور نبی دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے بلایا تو وہ چلتا ہواآیااورآپ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ پھر آپ نے اُس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ تو وہ اپنی جگہ واپس لوٹ گیا۔ (1)
درودِ ابراہیمی کی تعلیم:
(9855)…حضرت سیِّدُنا کعب بن عُجْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیتِ طیبہ:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ۲۲، الاحزاب: ۵۶) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
نازل ہوئی تو ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا، آ پ پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ یوں پڑھا کرو: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌمَجِيْدٌوَّبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍكَمَابَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌمَجِيْدٌیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!حضرت محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اور ان کی اٰل پر درود بھیج جس طرح تو نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام پر درود بھیجا بے شک تو حمد اور بزرگی والا ہے ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!حضرت محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اور ان کی اٰل پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے
________________________________
1 - ابن ماجہ، كتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء، ۴ / ۳۷۲، حدیث: ۴۰۲۸