عام لوگوں کو شفاعت کاحکم:
(9846)…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ ابد قرار، شَفیعِ روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ایک شخص سے فرمایاجائے گا: ” اُٹھ اور شفاعت کر ۔ “ تو وہ اپنے سارے قبیلے کی شفاعت کرے گا۔ ایک شخص سے کہا جائے گا: ” اٹھ اور شفاعت کر ۔ “ تو وہ اپنے سارے گھر والوں کی شفاعت کرے گا ۔ یوں ہی ایک شخص سے کہا جائے گا: ” اٹھ اور شفاعت کر۔ “ تو وہ اپنے عمل کے مطابق ایک یا دو افراد کی شفاعت کرے گا۔ (1)
(9847)…حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: ہم میدان عرفات سے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ نکل کر اس گھاٹی سے گزرے جہاں اُمرا قیام کرتے ہیں۔ وہاں آپ نے درمیانی وضو کیاتو میں نے عرض کی : یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!نماز ادا کر لیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: نماز آگے پڑھیں گے ۔ پھر جب مُزدَلِفَہ پہنچے تو اقامت کے بعد نماز مغرب پڑھائی(پھر لوگوں نے اپنی سواریاں بٹھائیں )ابھی آخری لوگوں نے کجاوے نہ اُتارے تھے کہ اقامت ہوگئی اورآپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عشاکی نماز پڑھائی۔ (2)
دو آیتوں کی تفسیر نبوی:
(9848)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِس فرمان:
وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۹۷) (پ۴، اٰل عمرٰن: ۹۷) ترجمۂ کنز الایمان: اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے ۔
کی تفسیرمیں حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: یعنی وہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن کا منکر ہو ۔ (3)
(9849)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرورِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ
________________________________
1 - الاحادیث المختارة، ۱۳ / ۱۳۳، حدیث: ۲۱۵، آدم بن علی العجلی
2 - بخاری، کتاب الوضوء، باب اسباغ الوضوء، ۱ / ۷۲، حدیث: ۱۳۹، بتغیر
3 - تفسیر الطبری، پ۳، سورة آل عمرٰن ، تحت الایة: ۹۷، ۳ / ۳۶۹، حدیث: ۷۵۱۵