Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
140 - 361
وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ- (پ۳، البقرة: ۲۸۵، ۲۸۶)
کی طاقت بھراس کافائدہ ہے جواچھاکمایااوراس کانقصان ہے جو برائی کمائی اے رب ہمارے ہمیں نہ پکڑاگرہم بھولیں یا چوکیں۔
	اہْلِ ایمان کی اس دعا پرباری تعالیٰ نے فرمایا:  میں نے ایسا کر دیا۔ انہوں نے پھر دعاکی: 
رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ- (پ۳، البقرة: ۲۸۶)     ترجمۂ کنز الایمان: اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار(طاقت) نہ ہو۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:  میں نے ایسا کر دیا۔ (1)
اللہتعالٰی کی طرف سے سلام: 
(9845)…حضرت سیِّدُناابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور سیِّد عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما تھے اورآپ کے پاس حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی بیٹھے ہوئے تھے ، وہ ایک ایسی قباپہنے ہوئے تھے جسے انہوں نے کانٹو ں کے ذریعے اپنے سینے پر روکا ہواتھا، اتنے میں حضرت سیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف سے سلام پیش کیااورعرض کی:  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں کہ ابو بکر صدیق  نے ایسی قبا پہن رکھی ہے جسے انہوں نے کانٹوں سے اپنے سینے پراٹکایاہواہے ؟رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے جبرئیل !انہوں نے فتح سے پہلے اپناتمام  مال مجھ پر خرچ کردیاہے ۔ حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: انہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے سلام پہنچائیے اور فرمائیے : تمہارا رب تم سے پوچھتا ہے کہ اس فقروغربت میں مجھ سے راضی ہویا ناخوش ؟چنانچہ آپ نے حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: اے ابوبکر!یہ حضرت جبریل ہیں جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے تمہیں سلام کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارارب پوچھتا ہے : کیا  اس فقر میں تم مجھ سے راضی ہو یا ناخوش ؟توآپ نے روتے ہوئے عرض کی:  کیا میں اپنے رب تعالیٰ سے ناخوش ہوسکتا ہوں ؟ میں اپنے رب سے راضی ہوں، میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ (2)



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الایمان، باب بیان انہ سبحانہ وتعالی لم یکلف الا مایطاق، ص۷۸، حدیث: ۱۲۶، بتغیر قلیل
2 -   تاریخ بغداد، ۲ / ۱۰۵، رقم:  ۴۹۹،  محمد بن بابشاذ