رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جواذان سنے اس پرجمعہ واجب ہے ۔ (1)
بعض محمد نامی راویوں کا تذکرہ:
سیِّدُناامام ابونُعَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ” محمد “ نام کے کئی حضرات سے مُسْنَد، مُرْسَل اورموقوف روایات کی ہیں، ہم یہاں اُن کی روایات ذکرکئے بغیرفقط ان کے اسمائے گرامی بیان کرنے پراکتفاکریں گے ، کوفہ سے تعلق رکھنے والے راوی یہ ہیں: ابوعاصم محمدبن ابوايوب ثَقَفی، محمد بن اسماعيل بن راشد سُلَمی، ابوجابرمحمد بن عُبَيْدكِندی ، ابوسہل محمد بن سالم ہمدانی ، محمد بن صُبَیْح سَمَّاك، محمدبن عبْدُاللہ بَكَّاء، محمد بن ابان جُعْفی۔ جوراوی کوفہ کے علاوہ ہیں وہ یہ ہیں: محمد بن سائب بن بَرَکَہ مکی، ابو جعفرمحمد بن مسلم بن مہران مُؤَذِّن، ابورجامحمدبن سيف بصری، محمدبن واسع بن صُبَیْح، محمدبن راشدمَکْحولی، محمدبن عون خُرَاسانیرَحْمَہُمُ اللہِ ۔
(9844)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ- (پ۳، البقرة: ۲۸۴) ترجمۂ کنز الایمان: اگر تم ظاہرکرو جوکچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔
تواس سے حضرات صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے دلوں میں ایسی بات داخل ہوگئی جو پہلے کسی شے سے داخل نہ ہوئی تھی توکریم آقا، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ تم یہ کہو : ” سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا یعنی ہم نے سنا ، اطاعت کی اور تسلیم کیا۔ “ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے دلوں میں ایمان بھردیا اور یہ آیت نازل فرمائی:
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵) لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ
ترجمۂ کنزالایمان: رسول ایمان لایااس پرجواس کے رب کے پاس سے اس پراُترااورایمان والے سب نے مانااللہاوراس کے فرشتوں اوراس کی کتابوں اوراس کے رسولوں کویہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنااورمانا تیری معافی ہواے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرناہے اللہکسی جان پربوجھ نہیں ڈالتامگر اس
________________________________
1 - ابو داود، کتاب الصلاة، باب من تجب علیہ الجمعة، ۱ / ۳۹۴، حدیث: ۱۰۵۶