(9838)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جنت اوپروالے ساتویں آسمان میں ہے ۔ پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ(۱۸) (پ۳۰، المطففین: ۱۸) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک نیکوں کی لکھت سب سے اونچے محل عِلِّیِّین میں ہے ۔ (1)
(9839)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تلبیہ پڑھتے ہوئے دو جمروں کے پاس رُکے ۔
صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو گالی دینے والا لعنتی ہے :
(9840)…حضرت سیِّدُناعطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ سرورِ کونین، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہے ۔ (2)
(9841)…حضرت سیِّدُناطلق بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: انہوں نے یاکسی اورنے رسولِ پاک، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسئلہ پوچھا کہ کیاآلَۂ تناسُل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ تو ارشاد فرمایا: وہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ۔ (3)
(9842)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: اللہعَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا فرماتے : ” لَااِلٰهَ اِلَّااللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَہُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُوَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے ہے بادشاہی اورتمام تعریفیں اور وہ ہر شے پر قادر ہے ۔ “ (4)
(9843)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ
________________________________
1 - البعث والنشور للبیھقی، باب ما جاء فی موضعِ الجنة وموضعِ النار، ص۲۶۵، حدیث: ۴۵۵
2 - مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الفضائل، باب ما ذكر في الكف عن اصحاب النبی ، ۷ / ۵۵۰، حدیث: ۱۶
3 - مسند امام احمد، حدیث طلق بن علی، ۵ / ۴۹۳، حدیث: ۱۶۲۸۶
4 - مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو، ۲ / ۶۶۲، حدیث: ۶۹۷۹