Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
138 - 361
(9838)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  جنت اوپروالے ساتویں آسمان میں ہے ۔ پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: 
اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ(۱۸) (پ۳۰، المطففین: ۱۸)                                    ترجمۂ کنز الایمان:  بے شک نیکوں کی لکھت سب سے اونچے محل عِلِّیِّین میں ہے ۔ (1)
(9839)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تلبیہ پڑھتے ہوئے دو جمروں کے پاس  رُکے ۔ 
صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو گالی دینے والا لعنتی ہے : 
(9840)…حضرت سیِّدُناعطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ سرورِ کونین، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت ہے ۔   (2)
(9841)…حضرت سیِّدُناطلق بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: انہوں نے یاکسی اورنے رسولِ پاک، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسئلہ پوچھا کہ  کیاآلَۂ تناسُل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ تو ارشاد فرمایا:  وہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ۔ (3)
(9842)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: اللہعَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا فرماتے :  ”  لَااِلٰهَ اِلَّااللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَہُ الْمُلْكُ  وَلَهُ الْحَمْدُوَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے ہے بادشاہی اورتمام تعریفیں اور وہ ہر شے پر قادر ہے ۔  “ (4)
(9843)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ



________________________________
1 -   البعث والنشور للبیھقی، باب ما جاء فی موضعِ الجنة وموضعِ النار، ص۲۶۵، حدیث: ۴۵۵
2 -    مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الفضائل، باب ما ذكر في الكف عن اصحاب النبی ، ۷ / ۵۵۰، حدیث: ۱۶
3 -   مسند امام احمد، حدیث طلق بن علی، ۵ /  ۴۹۳، حدیث: ۱۶۲۸۶
4 -   مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو، ۲ /  ۶۶۲، حدیث: ۶۹۷۹