غیبی خبریں:
(9833)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں: میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، اُس وقت حضورنبی مکرم، شَفیعِ مُعظّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 40افرادکے ہمراہ چمڑے کے خیمے میں تشریف فرما تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک تمہیں فتح دی جائے گی، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں غنیمتیں دی جائیں گی لہٰذا تم میں سے جویہ پائے اسے چاہئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے ، بھلائی کا حکم دے اور بُرائی سے منع کرے اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔ (1)
اپنی قوم کی ناحق مددکرنے والے کی مثال:
(9834)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جوشخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرے اس کی مثال اس اونٹ جیسی ہے جو کنویں میں گر جائے اور اسے دُم پکڑ کر نکالا جائے ۔ (2)
(9835)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن شداد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ” جس شے کو آگ نے چھوا اُسے کھانے کے بعد وضوکیا جائے ۔ “ مروان نے کہا: ہم کسی سے کیوں پوچھیں جبکہ ہمارے درمیان رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج اور ہماری مائیں موجود ہیں؟ پھرمروان نے مجھے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس بھیجا، میں نے یہ بات ان سے پوچھی تو انہوں نے فرمایا: ” میرے پاس رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باوضو تشریف لائے ، میں نے ہڈی والا بھنا ہوایا بازوکا گوشت پیش کیاتو آپ نے اس میں سے کچھ کھایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہ کیا(3)۔ “ (4)
________________________________
1 - ترمذی، کتاب الفتن، باب: ۷۰، ۴ / ۱۱۳، حدیث: ۲۲۶۴، مسندامام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود، ۲ / ۶۱، حدیث: ۳۸۰۱
2 - مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود، ۲ / ۶۱، حدیث: ۳۸۰۱
3 - مُفَسِّر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد1، صفحہ253 پرا س کے تحت فرماتے ہیں: نہ وضو شرعی نہ لغوی یعنی ہاتھ دھونا بلکہ ہاتھ پونچھے بھی نہیں تاکہ معلوم ہو کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونایا پونچھنا فرض یا واجب نہیں، سنت ہے جس کے کرنے پرثواب، نہ کرنے پر گناہ نہیں۔
4 - مصنف عبد الرزاق، کتاب الطھارة، باب من قال لا یتوضا، ۱ / ۱۳۰، حدیث: ۶۴۴