(9829)…حضرت سیِّدُناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُمُّ المؤمنین حضرت صفیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکوآزادکیا اور اس آزادی کوان کامہربنا دیا(1)۔ (2)
(9830)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے (3)۔ (4)
(9831)…حضرت سیِّدُنا حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: تقدیر لکھی جا چکی، قلم خشک ہوگیا اور جو امور پیش آنے ہیں وہ ایک کتاب میں پہلے سے لکھے ہوئے ہیں۔
جنت میں اُمَّتِ محمدیہ کی تعداد:
(9832)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیتِ طیبہ:
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۳۹) وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۴۰)(پ۲۷، الواقعة: ۳۹، ۴۰) ترجمۂ کنز الایمان: اگلوں میں سے ایک گروہ اور پچھلوں میں سے ایک گروہ۔
نازل ہوئی تو سرکارِ دوعالَم، رَسُوْلِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم اہْلِ جنت کاچوتھائی حصہ ہو، تم اہْلِ جنت کا تہائی حصہ ہو، تم اہْلِ جنت کا نصف حصہ ہو، تم اہْلِ جنت کا دو تہائی حصہ ہو۔ (5)
________________________________
1 - یعنی بجز آزادی کے اور کوئی مہرانہیں نہ دیا، یہ یا تو حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی خصوصیات سے ہے کہ آپ پر ازواج کا نہ مہر واجب ہے نہ باری مقرر کرنا لازم، ربّ تعالیٰ فرماتاہے : ” وَ تُـْٔوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُؕ الایۃ “ (پ۲۲، الاحزاب: ۵۱)۔ یا یہ مطلب ہے کہ مہر معجل یعنی نکاح کا چڑھاوا کچھ نہ دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ فرمایا بعد میں مہر مثل دیا جیسا کہ اب بھی یہ ہی حکم ہے ورنہ عورت کاآزادکرنامہرنہیں بن سکتا، مہرمال ہوناچاہیے ۔ رب تعالیٰ فرماتاہے : ” اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ (پ۵، النسآء: ۲۴) “ لہٰذایہ حدیث نہ توقرآنِ کریم کے خلاف ہے نہ مذہب آئمہ کے خلاف۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۷۳)
2 - بخاری، کتاب النکاح، باب من جعل عتق الامة، ۳ / ۴۲۷، حدیث: ۵۰۸۶
3 - امام ا بنِ حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : یعنی ایسی کمائی جو وہ بدکاری کے ذریعے کرے ورنہ جائز کاموں کی کمائی جائز ہے اور اس کی وضاحت دیگر روایات سے ہوتی جہاں یہ الفاظ بھی وارد ہیں: حَتَّی یَعْلَمَ مِنْ اَیْنَ ہُوَیعنی یہاں تک کہ پتا چل جائے کہ وہ کمائی کہاں سے ہے ۔ (فتح الباری، ۵ / ۳۶۵)
4 - معجم اوسط، ۶ / ۷۵، حدیث۸۰۵۲
5 - مسندامام احمد، مسندابی ھریرة، ۳ / ۳۴۴، حدیث: ۹۰۹۱
تفسیرقرطبی، پ۲۷، سورة الواقعة، تحت الایة: ۱۳، ۱۷ / ۱۴۷، دون قولہ: ثلثا اھل الجنة