لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ حالتِ احرام میں تھے (1)۔ (2)
(9825)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورسرورکونین، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مصیبت زدہ کوتسلی دی تو اسے مصیبت زدہ کے برابر ثواب ملے گا۔ (3)
500سال پہلے جنت میں:
(9826)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے : غریبوں کے غمگسار آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: غریب مومن مالدارمومنوں سے آدھادن پہلے جنت میں چلے جائیں گے اور یہ500 سال کی مدت ہے (4)۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کی: یارسولَ اللہ! کیا میں ان میں سے ہوں؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر تم صبح کا کھانا کھا لو تو کیاتمہارے پاس رات کاکھانا ہوتا ہے اور رات کاکھا کر صبح کے لئے کچھ ہوتاہے ؟اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے ارشادفرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔ پھر دوسرے شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ! کیا میں ان میں سے ہوں؟ارشاد فرمایا: کیا تم نے وہ سناجوہم نے اس شخص سے کہا؟اس نے عرض کی: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: کیا تمہارے پاس ان پہنے ہوئے کپڑوں کے علاوہ ستر چھپانے کے لئے کوئی کپڑاہے ؟عرض کی: جی ہاں۔ ارشادفرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔ پھرایک اورشخص عرض گزار ہوا: یارسولَ اللہ!کیا میں ان میں سے ہوں؟ ارشاد فرمایا: کیا تم نے وہ باتیں سنیں جو تم سے پہلے میں نے ان دوسے فرمائی ہیں؟اس نے عرض کی: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: جب تم قرض لینا چاہتے ہو تو کیا تمہیں قرض مل
________________________________
1 - احرام باندھتے وقت جو خوشبو حضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم استعمال کرتے تھے وہ بعینہ آپ کی مانگ شریف میں بعدِ احرام بھی باقی رہتی تھی گویا میں تصوُّر میں اب بھی اسے دیکھ رہی ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بحالَتِ احرام خوشبو لگانا حرام ہے مگر احرام سے پہلے کی خوشبو کا بقا جائز ہے خواہ خوشبو کا جرم باقی رہے یا اثر، یہ ہی امام اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللہُ عَنْہ کا مذہب ہے اور یہ حدیث امام اعظم(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)کی دلیل ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۴ / ۱۰۲)
2 - مسلم، کتاب الحج، باب الطیب للمحرم عند الاحرام، ص۶۰۸، حدیث: ۱۱۹۰
3 - ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی اجرمن عزی مصابا، ۲ / ۳۳۸، حدیث: ۱۰۷۵
4 - ابن ماجہ، الزھد، باب منزلة الفقراء، ۴ / ۴۳۲، حدیث: ۴۱۲۲