کی جائے گی۔ (1)
(9821)…حضرت سیِّدُنا زیدبن خالدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالَم کے داتا، غریبوں کے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: جوشخص کسی مومن کو ظلماً قتل کرے تو اُس کے وُرَثاکوقِصاص کا اختیار ہے ، تمام مومن اسی پرقائم رہیں توجواللہ عَزَّ وَجَلَّاورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہے اُسے حلال نہیں ہے کہ قاتل کو پناہ دے یا اس کی مددکرے پس جس نے اسے پناہ دی یا اس کی مدد کی تو اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اوراس کا کوئی فرض قبول ہو گا نہ کوئی نفل۔ (2)
(9822)…حضرت سیِّدُنا سعید بن جُبَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اس فرمانِ باری تعالیٰ:
وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِؕ- (پ۸، الاعراف: ۲۲) ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے ۔
کی تفسیر میں فرمایا: وہ انجیر کے درخت کے پتے تھے ۔
نہروان کا قصہ:
(9823)…حضرت سیِّدُنامحمدبن قَیس ہَمدانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتے ہیں کہ میں نہروان کے دن امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ساتھ تھا، آپ نے فرمایا: ذوالثدیہ(پستان نماہاتھ والے خارجیوں کے پیشوا) کو ڈھونڈو۔ لوگوں نے اسے ڈھونڈا مگروہ نہ ملاتوامیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگا، آپ نے پھر فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے جھوٹ کہا نہ مجھ سے جھوٹ کہا گیا ، اُسے پھر تلاش کرو ۔ راوی کہتے ہیں: اِس بار ہم نے اُسے پانی کے ایک نالے (یا کہا: )ایک چھوٹی نہرمیں پا لیا ، جب اسے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لایا گیا تو آپ سجدۂ شکر بجالائے ۔
(9824)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا: گویامیں حضورنبی پاک، صاحبِ
________________________________
1 - سنن کبری للنسائی، کتاب الصیام، باب ثواب من فطر صائما ، ۲ / ۲۵۶، حدیث: ۳۳۳۰
2 - مصنف عبد الرزاق، کتاب العقول، باب عمد السلاح، ۹ / ۱۸۱، حدیث: ۱۷۵۰۳، مسند الشافعی، ومن کتاب جراح العمد، ص۱۹۸