Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
130 - 361
 اسے (یعنی حلالے کی نیت سے نکاح کرنے کو)زنا  شمار کیا کرتے تھے (1)۔ (2)
(9812)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے طواف زیارت کو رات تک مُؤَخَّر فرمایا ۔  (3)
جھانکنے کی ممانعت: 
(9813)…حضرت سیِّدُناسہل بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حضورنبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے کاشانَۂ اقدس میں تشریف فرماتھے اوراپنی داڑھی شریف میں کنگھی کررہے تھے کہ ایک شخص نے آکرسوراخ سے اندرجھانکا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس کی جانب توجہ کی توفرمایا: اگرمجھے معلوم ہوتاکہ تم اندردیکھ رہے ہوتومیں یہ کنگھی تمہاری آنکھ میں چبھودیتا۔ اجازت لینے کاحکم آنکھ ہی کی وجہ سے ہے ۔ (4)
(9814)…حضرت سیِّدُناعمران بن حصینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نافرمانی میں کوئی ” نذر “ نہیں اوراس کاکفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے ۔ (5)
(9815)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقربانی کے لئے 100اونٹ لے کر آئے ، ان میں ابوجہل کا اونٹ بھی تھاجس کی ناک میں سونے کا حلقہ تھا(یہ اونٹ غزوۂ بدر کے مال غنیمت میں حاصل ہوا تھا)۔ (6)



________________________________
1 -    ” نکاح بِشَرْطِ التَّحْلِیْل(حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح)جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اوریہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوجِ اَوَّل و ثانی (پہلا شوہر جس نے طلاق دی اور دوسرا جس سے نکاح کیا) اور عورت تینوں گناہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائطِ حلالہ شوہرِ اوّل کے ليے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے ۔ اورشوہرِثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے ۔ ‘‘(بہارشریعت، حصہ۸، ۲ /  ۱۸۰)
2 -   معجم اوسط، ۴ / ۳۶۱، حدیث۶۲۴۶، بتغیر قلیل
3 -   ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب زیارة البیت، ۳ /  ۴۸۸، حدیث: ۳۰۵۹
4 -    ترمذی، کتاب الاستئذان، باب من اطلع فی دار قوم بغیر اذنھم، ۴ / ۳۲۵، حدیث: ۲۷۱۸، لحیتہ بدلہ راسہ
5 -   مسندامام احمد، حدیث عمران بن حصین، ۷ /  ۲۲۵، حدیث: ۲۰۰۰۵
6 -   ابن ماجہ، المناسک، باب حجة رسول اللّٰہ، ۳ /  ۵۰۳، حدیث: ۳۰۷۶