عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: سخاوت جنت میں ایک درخت ہے اور اس کی شاخیں دنیا میں ہیں تو جس نے اس کی کسی شاخ کو تھام لیایہ اسے جنت میں کھینچ لے گی اور بخل جہنم میں ایک درخت ہے اور اس کی شاخیں دنیا میں ہیں تو جس نے اس کی کسی شاخ کو پکڑلیایہ اسے جہنم میں کھینچ لے گی۔ (1)
(9791)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تو میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ!میں آپ کے اِس حکم میں مضبوط سکے کی طرح عمل کر گزروں یا پھر مشاہدہ کرنے والے کی طرح ہوجاؤں کہ وہ وہ دیکھتا ہے جو غائب
نہیں دیکھتا (یعنی یاتفتیش احوال کرلوں)؟ارشاد فرمایا: مشاہدہ کرنے والاجو دیکھتا ہے وہ غائب نہیں دیکھتا۔ (2)
(93-9792)… امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوشہزادۂ رسول حضرت سیِّدُناابراہیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ ماجدہ کے چچا زادبھائی کے بارے میں کوئی نازیباخبرملی توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے تلواردے کرفرمایا: جاؤاوراسے قتل کر دو۔ میں اس تک پہنچا تو وہ کھجور کے درخت پرتھا، مجھے دیکھ کر معاملہ سمجھ گیا اور اس نے جھک کراپنا کپڑا اٹھا دیا، دیکھاتو اُس کا عضوِ تناسُل کٹا ہوا تھالہٰذا میں نے اُس کے قتل کا ارادہ ترک کردیا اوربارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکرصورت حال عرض کی تو ارشاد فرمایا: تم نے اچھاکیامشاہدہ کرنے والاجودیکھتا ہے وہ غائب نہیں دیکھتا۔ (3)
دودھ پلانے اور چھڑانے والی:
(9794)…حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی غیب دان ، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: عنقریب تم حکومت کی حرص کروگے جبکہ یہ قیامت کے دن حسرت و شرمندگی ہوگی۔ دودھ پلانے والی(یعنی رعایاکوحقوق دینے والی حکومت)اچھی اوردودھ چُھڑانے والی(یعنی رعایا کو محروم کرنے والی حکومت) بُری ہے ۔ (4)
________________________________
1 - شعب الایمان ، باب في الجود و السخاء، ۷ / ۴۳۴، حدیث: ۱۰۸۷۵، جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ
2 - مسندامام احمد، مسند علی بن ابی طالب، ۱ / ۱۸۰، حدیث: ۶۲۸، بتغیر
3 - مسندالبزار، مسند علی بن ابی طالب، ۲ / ۲۳۷، حدیث: ۶۳۴، مسندامام احمد، مسند علی بن ابی طالب، ۱ / ۱۸۰، حدیث: ۶۲۸
4 - نسائی، کتاب اٰداب القضاة، باب النھی عن مسالة الامارة، ص۸۵۲، حدیث: ۵۳۹۵