(9787)…حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ حضورنَبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ابلیس کا تخت سمندر کے اوپر ہے وہ اپنے لشکر وں کو بھیجتا ہے (جو لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں)، اس کے نزدیک اُن میں سب سے بڑے درجے والا وہ ہے جو سب سے زیادہ فتنہ ڈالے ۔ (1)
(9788)…حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِوالاتَبار، دوعالَم کے مالک ومختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک مریض کی عیادت کرنے گئے تواسے تکیہ پرسجدہ کرتے دیکھا، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے تکیہ لے کرپھینک دیا، اُس نے نمازکے لئے ایک لکڑی لے لی ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اُسے بھی اُٹھاکرپھینک دیا اورارشادفرمایا: اگرطاقت ہے توسجدہ زمین پرکرو ورنہ اشارے سے پڑھواورسجدوں میں رکوع سے زیادہ جھکو(2)۔ (3)
(9789)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے (4)۔ (5)
سخاوت اور بخل کے درخت:
(9790)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ محبوبِ کبریا، صاحبِ جود وسخا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - مسندامام احمد، مسندجابر بن عبد اللّٰه، ۵ / ۸۶، حدیث: ۱۴۵۶۰
2 - آج کل بعض نمازی حضرات کرسی کے آگے لگی ہوئی تختی پر سر رکھ کر سجدہ کرتے ہیں ، ایسوں کی خدمت میں مدنی مشورہ ہے کہ وہ اس کے شرعی احکام جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ34صفحات پر مشتمل رسالہ ” کرسی پر نماز پڑھنے کے احکام “ کا مکمل مطالعہ فرمالیں، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّنمازوں کی حفاظت کا سامان ہوگا۔
3 - سنن کبری للبیھقی، کتاب الصلاة، باب الایماء بالرکوع والسجود، ۲ / ۴۳۴، حدیث: ۳۶۶۹
4 - گائے یا بکری ذبح کی اور اس کے پیٹ میں بچہ نکلا اگر وہ زندہ ہے ذبح کردیا جائے حلال ہوجائے گا اور مرا ہوا ہے تو حرام ہے اُس کی ماں کاذبح کرناا ُس کے حلال ہونے کے لئے کافی نہیں۔ (بہارشریعت، حصہ۱۵، ۳ / ۳۲۰ بحوالہ الدرالمختار، کتاب الذبائح ، ۹ / ۵۰۷) مُفَسِّر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ہمارے امام اعظمقُدِّسَ سِرُّہٗکے نزدیک اگر بچہ زندہ نکلااور اُسے ذبح کرلیا گیا تو حلال ہے ورنہ حرام۔ امام صاحب فرماتے ہیں : اولا تو یہ حدیث صحیح نہیں ، اگر صحیح ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پیٹ کے بچہ کااس کی ماں کی ذبح کی طرح ہے یعنی جیسے اس کی ماں کو حلقوم ورگوں کو کاٹ کر ذبح کیا جاتا ہے ایسے ہی اس کے بچہ کو ذبح کیا جائے گا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۶۵۳ملتقطاً)
5 - ابو داود، کتاب الضحایا، باب ما جاء فی زکاة الجنین، ۳ / ۱۳۸، حدیث: ۲۸۲۸