وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہوتا ہے تو اس پرایک بھی گناہ نہیں ہوتا۔ “ (1)
بہترین اور بُری صفیں:
(9783)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مردوں کی بہترین صف پہلی اور بُری آخری ہے جبکہ عورتوں کی بہترین صف آخری اور بُری پہلی ہے ۔ (2)
(9784)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ مکّی مَدَنی سرکار، دو عالم کے مالِک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: میرے نام اور کنیت کو جمع نہ کرو، میں ابوالقاسم ہوں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں(3)۔ (4)
غلاموں کے حقوق:
(86-9785)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شاہِ بنی آدم، رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کھانااور کپڑا غلام کا حق ہے اوراُس پر اس قدر کام کابوجھ نہ ڈالاجائے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ (5)
________________________________
1 - ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۹، حدیث: ۲۴۰۷، دون قولہ: دینه
2 - مسلم، کتاب الصلاة ، باب تسویة الصفوف الخ ، ص۲۳۲، حدیث: ۴۴۰
3 - یعنی ابو القاسم محمدیا ابو القاسم احمد نام نہ رکھو، مگریہ حکم پہلے تھا بعد میں اِ س کی اجازت عطا فرمادی تھی۔ چنانچہ، مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت حضور کی حیات شریف میں تھی بعد وفات ہر طرح اجازت ہے خواہ حضور انور کا نام رکھے یا آپ کی کنیت یا دونوں جمع کردے کہ نام رکھے محمد، کنیت رکھے ابو القاسم، اس کے متعلق اور بہت سے قول ہیں یہ ہی قول قوی ہے جو ہم نے عرض کیا کہ یہ حکم حیات شریف میں تھا۔ (مرقات و اشعہ) حضرت علی نے حضور کے بعد اپنے بیٹے کا نام محمد کنیت ابوالقاسم رکھی جنہیں محمد ابن حَنفیہ کہا جاتا ہے اور انہوں نے حضور سے پہلے پوچھا تھا کہ کیا میں آپ کے بعد اپنے کسی بیٹے کا نام محمد، کنیت ابو القاسم رکھ سکتا ہوں فرمایا تھا : ہاں۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۴۰۶)
4 - مسندامام احمد، مسندابی ھریرة، ۳ / ۴۲۸، حدیث: ۹۶۰۴
5 - مسلم، کتاب الایمان، باب اطعام المملوک الخ ، ص۹۰۶، حدیث: ۱۶۶۲