(9770)…حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں: میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے دیکھا ہے (1)۔ (2)
اس حدیث کو حضرت سفیان ثوری سے روایت کرنے میں حضرت عثمان بن عَمْرورَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی مُتَفَرِّدہیں۔ اس مسئلے میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی حجازیوں اور عراقیوں سے اور بھی بہت سی مختلف
________________________________
1 - جمع بَیْنَ الصَّلاتَیْن(دونمازوں کو جمع کرنے )سے متعلِّق اَحناف کاموقف: اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نبِیِّ کریمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالتَّسْلِیْم کے ارشادات سے نمازِفرض کاایک خاص وقت جُداگانہ مقررفرمایاہے کہ نہ اس سے پہلے نمازکی صحت نہ اس کے بعدتاخیرکی اجازت، ظہرین(ظہروعصر)عرفہ وعشائین(مغرب وعشا)مُزدَلِفَہ کے سوادونمازوں کاقصداًایک وقت میں جمع کرناسفراً حضراً(حالَتِ سفریا اقامت میں)ہرگزکسی طرح جائز نہیں۔ قرآنِ عظیم واحادیثِ صحاحِ سیِّدُالمرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّماس کی ممانعت پر شاہد عدل ہیں۔ یہی مذہب ہے جید صحابَۂ کرام، تابعین عظام، ائمَۂ دین واکابرتبع تابعینرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکا۔ تحقیق مقام یہ ہے کہ جمع بین الصلاتین یعنی دونمازیں ملاکرپڑھنادوقسم(کا)ہے : جمع فعلی جسے جمع صوری بھی کہتے ہیں کہ واقع میں ہر نمازاپنے وقت میں واقع مگرادامیں مل جائیں جیسے ظہراپنے آخری وقت میں پڑھی کہ اس کے ختم پروقْتِ عصرآگیااب فوراً عصراول وقت پڑھ لی، ہوئیں تودونوں اپنے اپنے وقت میں اورفعلاًوصورتاً مل گئیں۔ اسی طرح مغرب میں دیرکی یہاں تک کہ شفق ڈوبنے پرآئی اس وقت پڑھی ادھرفارغ ہوئے کہ شفق ڈوب گئی عشا کا وقت ہوگیاوہ پڑھ لی، ایسا ملانابعذرِمَرَض و ضرورتِ سفر(یعنی عذر وسفرکی حالت میں)بلاشبہ جائزہے ہمارے عُلَمائے کرام بھی اس کی رخصت دیتے ہیں۔ امام ابوحنیفہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے فرمایاہے کہ جو شخص بارش، سفریاکسی اوروجہ سے دونمازوں کوجمع کرناچاہے تواس کو چاہئے کہ پہلی کوآخروقت تک مُؤَخَّر کر دے اوردوسری میں جلدی کرکے اول وقت میں اداکرے ، اس طرح دونوں کوجمع کرلے ، تاہم ہوگی ہرنماز اپنے وقت میں۔ دوسری قسم جمع وقتی ہے جسے جمع حقیقی بھی کہتے ہیں۔ اس جمع کے یہ معنیٰ ہیں کہ ایک نماز دوسری کے وقت میں پڑھی جائے جس کی دوصورتیں ہیں: جمع تقدیمکہ وقت کی نمازمثلاًظہریامغرب پڑھ کراس کے ساتھ ہی متصلاًبلافصل پچھلے وقت کی نمازمثلاًعصریاعشاء پیشگی پڑھ لیں، اورجمع تاخیرکہ پہلی نمازمثلاًظہریامغرب کو باوصف قدرت واختیارقصدًا اٹھارکھیں کہ جب اس کا وقت نکل جائے گا پچھلی نمازمثلاًعصریاعشاء کے وقت میں پڑھ کراس کے بعدمتصلاًخواہ منفصلاًاس وقت کی نماز اداکریں گے ، یہ دونوں صورتیں بحالَتِ اختیارصرف حُجاج کوصرف حج میں صرف عصرعرفہ ومغرب مُزدَلِفَہ میں جائزہیں۔ ان کے سواکبھی کسی شخص کوکسی حالت میں کسی صورت جمع وقتی کی اصلاًاجازت نہیں اگرجمع تقدیم کرے گا(تو)نمازاخیرمحض باطل وناکارہ جائے گی جب اس کاوقت آئے گافرض ہوگی نہ پڑھے گاذمے پررہے گی اور جمع تاخیر کرے گاتوگنہ گارہوگا عمداًنمازقضاکردینے والاٹھہرے گااگرچہ دوسرے وقت میں پڑھنے سے فرض سر سے اُتر جائے گا۔ (فتاوٰی رضویہ’’مخرجہ‘‘، ۵ / ۱۶۰تا۱۶۳، ملتقطًا)
2 - مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب الجمع بین الصلاتین، ص۳۵۶، ۳۵۷، حدیث: ۷۰۵