(65-64-9763)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کے مابین سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔ (1) دو نمازوں کو جمع کرنا:
(9766)…حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے : رحمتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت پر رخصت کا ارادہ کرکے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ منورہ میں جمع فرمایا۔ (2)
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی حضرت سیِّدُنا محمدبن مُنْکَدِرسے مروی یہ حدیث غریب ہے اس میں حضرت سیِّدُنا ربیع بن یحییٰ اُشنانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی متفرد ہیں۔ نمازوں کو جمع کرنے کے معاملے میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے متعدد وجوہات کی بناپر اختلاف کیا گیا ہے ۔
(9767)… حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا: رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ظہر و عصر کو جمع فرمایا حالانکہ نہ تو بارش تھی اور نہ ہی خوف کا معاملہ تھا۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے کسی نے پوچھا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی امت کو حرج میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے ۔ (3)
اس حدیث کے حوالے سے بھی حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے اختلاف کیا گیا ہے ۔
(9768)…حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں: میں نے غزوۂ تبوک کے موقع پر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے دیکھا ہے ۔ (4)
(9769)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا، دوعالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بغیرکسی سفروخوف کے مدینہ منورہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا فرمایا ۔ (5)
________________________________
1 - مسلم، کتاب القسامة والمحاربین، باب المجازاةا بالدماء الخ ، ص۹۲۰، حدیث: ۱۶۷۸
2 - مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الصلاة، باب من قال يجمع المسافر بين الصلاتين، ۲ / ۳۴۴، حدیث: ۵، عن ابن عباس، بتغیرٍ قلیل
3 - مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب الجمع بین الصلاتین، ص۳۵۶، حدیث: ۷۰۵
4 - مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب الجمع بین الصلاتین، ص۳۵۶، حدیث: ۷۰۶
5 - سنن کبرٰی بیھقی، کتاب الصلاة، باب الجمع فی المطر بین الصلاتین ، ۳ / ۲۳۷، حدیث: ۵۵۴۸، عن ابن عباس