کو ہر گز معمولی مت سمجھنا اوردنیا والوں سے ان کی دنیا کے بارے میں نہیں جھگڑنا۔
دیکھو، میرے بھائی! تمہاراسب سے پہلاکام تنہائی اور لوگوں کے درمیان اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنا ہونا چاہیے اور اس شخص کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈروجسے یہ یقین ہو کہ اُسے مر نا ہے ، پھراُٹھنااورمیدانِ محشر میں جمع ہونا ہے اورپھر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضورحاضرہونا ہے ۔ تمہارے اعمال کا حساب ہوگا پھر دو میں سے ایک گھر ٹھکانا ہوگا یا تو نعمتوں سے معمور ہمیشہ والی جنت یامختلف عذابوں سے بھرپورجہنم، جس میں ہمیشہ رہنا ہے اور موت نہیں اور اس شخص کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے امید رکھو جو جانتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ معاف بھی فرماتا ہے اور پکڑ بھی فرماتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی توفیق دینے والا ہے جس کے سوا کوئی ربّ نہیں۔
سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی مرویات
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا کلام، آپ کے احوال، الفاظ اورمواعظ ونصائح کثیر اور وسیع ہیں اورہمارے بیان کردہ اقوال واحوال کے علاوہ جوآپ کا کلام ہے اُس میں بھی عمل کرنے والے توفیق یافتہ لوگوں کے لئے فوائدموجودہیں اورآپ سے مروی احادیث وروایات اس قدر ہیں جن کا شمار ممکن نہیں ، آپ کی بعض احادیث وروایات کوپہلے کے بزرگوں اور علمانے جمع کیاہے ، ہم بھی یہاں آپ سے مروی بعض احادیث وروایات کو بیان کرتے ہیں ۔
(9755)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مدینے والے آقا، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم راستے میں پڑی کسی کھجور کے پاس سے گزرتے تو ارشاد فرماتے : اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو میں اسے ضرورکھالیتا۔ (1)
آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت و ریاضت:
(57-9756)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس قدرنمازپڑھتے کہ آپ کے پائے مبارک پرورم آجاتا، آپ سے عرض کی جاتی: ” آپ ایسا کرتے
________________________________
1 - بخاری، کتاب فی اللقطة، باب اذا وجد تمرة فی الطریق، ۲ / ۱۲۱، حدیث: ۲۴۳۱